Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / مخالفین کو غدار قرار دینا مرکزی حکومت کا نیا ہتھیار : مایاوتی

مخالفین کو غدار قرار دینا مرکزی حکومت کا نیا ہتھیار : مایاوتی

حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈہ کو نافذ کرنے کوشاں: بہوجن سماج پارٹی سربراہ کا بیان
لکھنو 15 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے آج الزام عائد کیا کہ این ڈی اے حکومت نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کو قوم مخالف اس لئے قرار دیا ہے تاکہ وہاں آر ایس ایس کے انتہاء پسندانہ اور جارحانہ ایجنڈہ کو نافذ کیا جاسکے ۔ انہوں نے جے این یو طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار کی غداری کے الزامات کے تحت گرفتاری کو سیاسی سازش قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی سنٹرل یونیورسٹی میں ایک دلت طالب علم روہت ویمولہ کی خود کشی کے معاملہ میں بھی مرکزی وزرا یا مرکزی حکومت کا جو رول رہا ہے وہ انتہائی منفی تھا اور یہ ایک خطرناک رجحان کے اشارے ہیں۔ مایاوتی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی جھٹکے میں بی جے پی زیر قیادت حکومت نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی جیسے باوقار ادارہ کو قوم مخالف قرار دیدیا ہے تاکہ یہاں آر ایس ایس کے انتہاء پسندانہ اور جارحانہ ایجنڈہ کو نافذ کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کی غداری کے الزام میں گرفتاری ہی غلط ہے ۔ پولیس نے سیاسی دباؤ میں آکر کنہیا کمار کو غداری کے الزام میں گرفتارک یا ہے ۔ جو قابل اعتراض نعروں پر مشتمل ویڈیو ہے اس میں کہیں بھی کنہیا کمار نظر نہیں آتے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت نے اپنے مخالف کو قوم مخالف قرار دینے کا نیا ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا ہے ۔ مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ ایک جانب تو بی جے پی پارلیمنٹ حملہ کیس کے خاطی افضل گرو کی حمایت میں پروگرام کرنے والوں کو گرفتار کرتی ہے تو دوسری جانب وہ جموںو کشمیر میں ایک ایسی پارٹی کے ساتھ حکومت قائم کرنے بے چین ہے جس نے افضل گرو کی پھانسی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ’ شہید ‘ قرار دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کیلئے بی جے پی کی محبت اور جذبہ حیرت انگیز ہے ۔ بی ایس پی سربراہ نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت جے این یو جیسے ادارہ کو نقصان پہونچانا چاہتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT