Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / مخالف این جی اوز بی جے پی حکومت کا نشانہ

مخالف این جی اوز بی جے پی حکومت کا نشانہ

بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کا الزام ‘ تیستاسیتلواد کی این جی او کا لائسنس منسوخ کرنے پر ردعمل
لکھنو۔19جون ( سیاست ڈاٹ کام ) بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے آج این ڈی اے حکومت پر انسانی حقوق کارکن تیستاسیتلواد زیر اہتمام این جی او سب رنگ ٹرسٹ کا لائسنس منسوخ کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز ان تمام سماجی تنظیموں اور این جی اوز کے خلاف کارروائی کررہا ہے جو اس کی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتی ہیں ۔ چنانچہ تیستاسیتلواد کی این جی او سب رنگ کا لائسنس بھی منسوخ کیا گیا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کارروائی تعصب پر مبنی ہے اور اس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بھی احتجاج کیا جائے گا ۔ انہوں نے پارٹی کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے جس میں کوآرڈینیٹر ‘ ارکان اسمبلی اور 2017ء کے یو پی اسمبلی انتخابات کے امیدوار بھی شامل تھے ۔ بی ایس پی کے دفتر پر خطاب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں مرکزی وزارت داخلہ کی زیرقیادت لاپتہ فائیلس کی تحقیقات کی جارہی ہیں جن کا تعلق عشرت جہاں کو اذیت رسانی کے گواہوں کے انکاؤنٹر میں قتل سے تھا ۔

اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ بی جے پی حکومت کس سمت میں کام کررہی ہے ۔ مایا وتی نے حیدرآباد یونیورسٹی کے دلت محقق روہت ویمولہ کی خودکشی کے بارے میں بھی کہا کہ انسانی حقوق وزارت کی وجہ سے روہت ویمولہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوگیا ۔ انہوں نے الزام عائدکیا کہ براقتدار سماج وادی پارٹی اور بی جے پی میں درپردہ اتحاد ہوچکا ہے اور وہ ہندو مسلم فسادات کی سازش کررہے ہیں ۔اسمبلی انتخابات سے پہلے ایسے فسادات کرواکر وہ سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ بی جے پی نے ہندوؤں کے کیرانہ سے نقل مقام کا مسئلہ اٹھایاہے لیکن سماج وادی پارٹی نے بروقت اس کا جواب نہیں دیا ‘اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں اس سازش میں شریک ہیں ۔ اجلاس میں بی ایس پی کی سربراہ نے پارٹی کی آئندہ سال اسمبلی انتخابات کیلئے تیاریوں کابھی جائزہ لیا ۔ سماج وادی پارٹی کے ہاتھوں شکست سے قبل بی ایس پی کی ہی یو پی میں حکومت تھی۔

TOPPOPULARRECENT