Monday , September 25 2017
Home / دنیا / مخالف داعش زمینی کارروائی میں بحرین کی شرکت

مخالف داعش زمینی کارروائی میں بحرین کی شرکت

مناما ۔7فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی زیر قیادت عسکری اتحاد شام میں آئی ایس آئی ایس کے خلاف زمینی کارروائی کے لئے بالکل تیار ہے۔ ماضی میں اگرچہ امریکہ نے بشار الاسد کی حامی فورس کے خلاف فضائی اور زمینی حملوں سے گریز کیا تھا حالانکہ سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں نے اس پر ایسا کرنے کے لئے زور دیا تھا لیکن اب صرف اور صرف آئی ایس آئی ایس کے صفائے کے خاطر امریکہ شامی محاذ جنگ میں کود پڑا ہے اس کی قیادت میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی زیر قیادت اتحاد میں عرب ملک بھی شامل ہیں۔ امریکی حکومت چاہتی ہے کہ شام میں داعش کے خلاف فیصلہ کن زمینی کارروائی کی جائے اور اس کارروائی میں عرب ملکوں کو بطور خاص شامل رہنا چاہئے۔ امریکہ کے ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مملکت سعودی عرب اہم رول ادا کررہی ہے۔

اس نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس کی فورس شام میں آئی ایس آئی ایس دہشت گردوں کے خلاف زمینی کارروائی میں بھی امریکی زیر قیادت اتحاد میں شامل رہے گی، سعودی عرب کی تقلید کرتے ہوئے مملکت بحرین نے بھی آئی ایس آئی ایس کے خلاف زمینی کارروائی میں شامل ہونے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت بحرین کا کہنا ہے کہ اس کی فورس شام میں داعش کے خلاف زمینی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے تیار ہے۔ بحرینی سفیر برائے برطانیہ شیخ فواد بن محمد الخلیفہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بحرین زمینی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے شام کو اپنی افواج بھیجنے کے لئے تیار ہے۔ واضح رہے کہ خود مملکت سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف تقریباً 40 مسلم ملکوں کا ایک اسلامی عسکری اتحاد تشکیل دیا ہے۔ شیخ فواد بن محمد الخلیفہ کے مطابق جی سی سی کے ایک اور رکن ملک متحدہ عرب امارات بھی زمینی لڑائی میں حصہ لینے اپنی فوج روانہ کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔
گزشتہ سال ہی متحدہ عرب امارات کے وزیر امور خارجہ انور قرقاش نے اس ضمن میں اعلان کیا تھا یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ عراق اور شام میں داعش کی پیشرفت اس کے دہشت گردوں کی وحشیانہ حرکتوں اور درندگی پر عالم عرب میں برہمی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ پچھلے جمعرات کو سعودی عرب کے وزیر دفاع کے ایک مشیر نے کہا تھا کہ اگر امریکی زیر قیادت عسکری اتحاد شام میں داعش کے خلاف زمینی کارروائی کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کی فورس اس اتحاد کا حصہ بننے کے لئے تیار ہے۔ برطانیہ میں متعین بحرینی سفیر کے مطابق شام میں سعودی عرب کی پہل داعش اور بشار الاسد کی ظالمانہ حکومت سے نمٹنے کے لئے ہے۔ شیخ فواد کے مطابق جی سی سی نے بحرین میں ایک نیا متحدہ بحری کارروائی مرکز قائم کرنے فیصلہ کیا، جہاں تک مشترکہ عرب فورس کی تشکیل کا سوال ہے اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کا عزم مصمم رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT