Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / مخالف مسلم دہشت گردی شعبہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور

مخالف مسلم دہشت گردی شعبہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور

تنظیم اسلامی تعاون کی 13 ویں چوٹی کانفرنس سے صدر ترکی کا خطاب ، دہشت گردی کے خلاف سعودی زیرقیادت اتحاد کی ستائش
استنبول ۔ /14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مسلم ممالک نے اتفاق کیا کہ ترکی میں قائم مسلم تنظیم میں ایک شعبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے قائم کیا جائے گا ۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے آج کہا کہ وہ مسلم ممالک کے قائدین پر زور دیتے ہیں کہ ترک وطن کرنے کی بنیادی وجہ پر غور کیا جائے ۔ وہ تنظیم اسلامی تعاون کی 13 ویں چوٹی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے جو استنبول میں منعقد کی گئی ہے ۔ اردغان نے پرزور انداز میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ عالم اسلام کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے ۔ دہشت گردی کے موثر مقابلہ کیلئے انہوں نے مسلم ممالک کے قائدین پر زور دیا کہ اپنے اختلافات ختم کردیں اور صیانت و معیشت کو درپیش اس مسئلہ کا مقابلہ کریں ۔ انہوں نے سعودی زیرقیادت پہل کی تائید کی اپیل کی ۔ جس نے دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحاد قائم کیا ہے اور کہا کہ اسے ایک موثر شعبہ میں تبدیل کردیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ دیگر طاقتوں کو دہشت گرد واقعات اور دیگر بحرانوں میں دخل اندازی کرنے کیلئے انتظار کرنے کے بجائے مسلم ممالک کو چاہئیے کہ اپنے طور پر اسلامی اتحاد کے ذریعہ اس مسئلہ کا حل تلاش کریں ۔ ارذغان نے اعلان کیا کہ ترکی تجویز پیش کرتا ہے کہ استنبول میں قائم پولیس تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعہ ایک مرکز قائم کرے جس کو 57 رکنی اسلامی تنظیم تسلیم کرے ۔ صدر ترکی نے نوٹ کیا کہ دہشت گردی کے متاثرین کی بیشتر تعداد مسلم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’’شرمناک بات‘‘ ہے کہ ان میں سے بیشتر کو سمندروں میں اپنی جانوں کا خطرہ لاحق ہے ۔ جو لوگ اپنی جان پر کھیل کر یوروپ پہونچ رہے ہیں مسلم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے ایک لاکھ تارکین وطن کو بحر ایجین میں ڈوبنے سے بچایا ہے جو یونان جارہے تھے ۔ ترکی میں 27 لاکھ شامی پناہ گزین موجود ہیں جو حال ہی میں یوروپی یونین کے ساتھ متنازعہ معاہدے کے تحت یہاں داخل ہوئے ہیں ۔ اس معاہدے کے تحت غیرقانونی ترک وطن کو کچلا جارہا ہے ۔ دہشت گردی کا مقابلہ اور ترک وطن کا بحران دو مرکزی مسائل ہیں

جن پر تنظیم اسلامی تعاون کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے ۔ ترکی جسے گزشتہ سال کئی مہلک خودکش بم دھماکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے استنبول میں حفاظتی انتظامات میں شدت پیدا کرچکا ہے اور جن علاقوں میں ایسے واقعہ پیش آئے ہیں وہاں ٹریفک بند کرچکا ہے ۔ سعودی عرب کے فرمانروا ملک سلمان اور صدر ایران حسن روحانی ایک دوسرے کے خلاف شام اور یمن صف آراء ہیں ۔ یہ دونوں بھی اس چوٹی کانفرنس میں شریک ہیں ۔ صدر مصر عبدالفتاح السیسی کی غیرحاضری بری طرح محسوس کی گئی ۔ مصر اور ترکی کے درمیان تعلقات مصر میں اسلامی منتخبہ صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد سے تلخ ہوگئے ہیں ۔ شام میں خانہ جنگی بھی چوٹی کانفرنس کے ایجنڈہ میں شامل ہے ۔ مصر کے وزیر خارجہ سمیع شکری نے امید ظاہر کی کہ اس چوٹی کانفرنس سے شامی عوام کو توقعات ہیں کہ اس سے ان کے بحران کی عاجلانہ سیاسی یکسوئی ہوسکے گی اور دہشت گردی کے خلاف مقابلے کی اجازت ملے گی ۔

TOPPOPULARRECENT