Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / مخالف ہند بیانات سے گریز کرنے وزرا کو نواز شریف کی ہدایت

مخالف ہند بیانات سے گریز کرنے وزرا کو نواز شریف کی ہدایت

قیام امن کی کوششوں کی حوصلہ افزائی پر زور ۔ کشمیر ‘ دہشت گردی و تجارت پر گفتگو کا منصوبہ
اسلام آباد 19 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے وزرا اور معاونین کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے مخالف ہند بیانات دینے سے گریز کریں جن کے نتیجہ میں حال ہی میں شروع ہوئے امن مذاکرات پر کوئی منفی اثر پڑ سکے ۔ ایک میڈیا رپورٹ میںیہ بات بتائی گئی ۔ نواز شریف کے ایک قریبی ساتھی کا اخبار دی نیشن میں یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا ہے کہ اب صرف ایسے بیانات دئے جائیں گے جو ماضی کے گڑھے کھودنے کی بجائے بات چیت کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔ وزیر اعظم نے اپنے قریبی ساتھیوں اور کابینی وزرا سے کہا ہے کہ وہ امن کو فروغ دینے کوشش کریں۔ کہا گیا ہے کہ جاریہ ماہ بات چیت سے متعلق جو پہل ہوئی ہے اس کو آگے بڑھانے کے مقصد سے ایسی ہدایت دی گئی ہے ۔ وزرا اور سینئر عہدیداروں کو ایسے بیانات دینے سے روک دیا گیا ہے جن کے نتیجہ میں بات چیت کا عمل متاثر ہوسکتا ہے ۔ نواز شریف کے معاون کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا کہ وزیر اعظم ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات کیلئے پرامید ہیں جن کے نتیجہ میںسارے علاقہ کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ‘ ہندوستان سے دئے جانے والے کچھ بیانات پر برہم بھی تھے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیانات حکومت ہند کی پالیسی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ کشمیر ‘ دہشت گردی اور دونوں ملکوں کے مابین تجارت جیسے مسائل کو بات چیت میںترجیح دی جائے ۔ ایک اور عہدیدار کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا کہ وزیر اعظم اور فوجی قیادت دونوں ہی ہندوستان کے ساتھ امن قائم کرنے کے تعلق سے یکساں موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اور فوج کے مابین کوئی اختلاف نہیںہے اور دونوں ہی کا اس بات سے اتفاق ہے کہ اہم مسائل پر ملک کے معلنہ موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہئے ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان نے جامع مذاکرات کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ متنازعہ مسائل کو حل کیا جاسکے ۔ ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جاریہ ماہ کے اوائل میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے مشیر برائے خارجی امور سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی تھی ۔
اسی ملاقات کے بعد بات چیت کے احیاء کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT