Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مختصر مدتی ڈپازٹس کے لیے بھی پرانے نوٹ بند

مختصر مدتی ڈپازٹس کے لیے بھی پرانے نوٹ بند

حیدرآباد۔24نومبر(سیاست نیوز) حکومت نے بڑے کرنسی نوٹ کی تنسیخ کا فیصلہ کرتے ہوئے 1000اور500کے نوٹوں کو واپس لینے کا اعلان کیا لیکن اس کے فوری بعد خانگی بینکوں کی جانب سے مختصر مدتی فکسڈ ڈپازٹ کیلئے پیشکش کے ایس ایم ایس نے سب کو چونکا دیا بلکہ لوگوں نے ان اسکیمات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے پاس موجود 1000اور 500کے کرنسی نوٹ کے ذریعہ مختصر مدتی ڈپازٹ کروانے شروع بھی کردیئے تھے لیکن ریزرو بینک آف انڈیا نے 23نومبر کو جاری کردہ احکامات کے ذریعہ چھوٹے اور مختصر مدتی ڈپازٹ کیلئے منسوخ شدہ کرنسی قبول نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ ریزرو بینک کی جانب سے جاری کردہ احکام میں یہ واضح ہدایت دی گئی ہے کہ بینک اسمال سیونگ اسکیم میں ان نوٹوں کو قبول نہ کریں جنہیں منسوخ کردیا گیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ کے بعد جو بینک چھوٹے سرمایہ کاروں کو مختصر مدتی ڈپازٹ کی سہولت فراہم کر رہے تھے وہ بھی بند کردی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک میں کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے نقصانات سے بچنے کے لئے کئی کوششیں کی جا رہی ہیں جن میں ملازمین کے نام پر مختصر مدتی ڈپازٹ بھی کروائے جانے کی اطلاعات موصول ہورہی تھیں ان اطلاعات کے فوری بعد ریزرو بینک آف انڈیا نے اس عمل کا جائزہ لینا شروع کردیا اسی دوران اس بات کی توثیق ہوئی کہ ملک میں کئی مقامات پر اس طرح کی سرگرمیاں جاری ہیں اور خانگی بینک ڈپازٹ وصول کر رہے ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا نے احکام نمبر RBI/2016-17/151جاری کئے اور ان احکامات میں بینکرس کو ہدایت جاری کی گئی کہ وہ منسوخ کرنسی نوٹوں کے ذریعہ چھوٹے اور مختصر مدتی فکسڈ ڈپازٹ قبول نہ کریں حالانکہ بینکوں کا استدلال ہے کہ جب رقم بینک ہی پہنچ رہی ہے تو اس میں اعتراض نہیں ہونا چاہئے لیکن آر بی آئی حکام کا ماننا ہے کہ جن لوگوں کے پاس بھاری مقدار میں غیر محسوب کرنسی 1000اور500کی کرنسی کی شکل میں موجود ہے اس کرنسی کو وہ اپنے ملازمین اور دوستوں کے نام پر مختصر مدت کیلئے فکسڈ ڈپازٹ کروا رہے ہیں تاکہ ان کے کھاتوں میں رقم ڈالنے کی صورت میں انہیں نوٹس کی اجرائی کا خدشہ ہوگا اسی لئے اگر فکسڈ ڈپازٹ کردیا جائے تو مستقبل میں ڈپازٹ کردہ رقومات مدت کی تکمیل پر منہاء کئے جا سکیں گے۔ اس طرح کے جرائم کو روکنے کیلئے آر بی کی جانب سے یہ احکام جاری کئے جانے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT