Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / مختلف بینکوں کے 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈس سائبر حملے کا شکار

مختلف بینکوں کے 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈس سائبر حملے کا شکار

بیرون ممالک چین اور امریکہ میں رقم نکالنے کی شکایات ، صارفین کو پن نمبر فوری تبدیل کرنے کا مشورہ

ممبئی / نئی دہلی /20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی بینکنگ سیکٹر اب تک کے سب سے بڑے سائبر سکیورٹی حملے کا شکار ہوا ہے اس کی وجہ سے مختلف پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر بینکوں کے 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈس کو نشانہ بنایا گیا ۔ یہ سائبر حملہ کئی اے ٹی ایم سسٹم پر کیاگیا ۔ حکومت نے عوام سے خواہش کی ہے کہ وہ فکر مند نہ ہوں ۔ کئی بینکوں بشمول سرکاری ایس بی آئی نے کثیر تعداد میں کارڈز واپس طلب کرلئے ہیں ۔ جبکہ دیگر بینکوں نے اپنے کارڈس کو بلاک کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ صارفین سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ اے ٹی ایم کارڈس استعمال کرنے سے پہلے پن نمبر تبدیل کردیں ۔ تاحال 19 بینکوں سے دھوکہ دہی کے ذریعہ رقم منہا کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان بینکوں کے صارفین کے کارڈس سے دھوکہ دہی کے ذریعہ بیرونی ممالک بالخصوص چین اور امریکہ میں رقم نکالی گئی ۔ حالانکہ یہ صارفین ہندوستان میں ہیں ۔ تمام بینکوں نے اپنے کارڈ نیٹ ورک کے ذریعہ عوام کو چوکنا کردیا ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ تقریباً 3.2 ملین یعنی 32 لاکھ کریڈٹ کارڈس میں الٹ پھیر کی گئی ہے ۔ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا نے بتایا کہ اب تک 641 صارفین نے دھوکہ دہی کے ذریعہ ان کی رقم جو تقریباً 1.3 کروڑ روپئے ہے نکالے جانے کی شکایت کی ۔

ڈپارٹمنٹ آف فینانشیل سرویسیس کے ایڈیشنل سکریٹری جی سی مرمو نے صارفین سے خواہش کی ہے کہ وہ پریشان نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی ڈیبٹ کارڈس کے منجملہ صرف 0.5 فیصد کے تعلق سے یہ بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور 99.5 فیصد کارڈس محفوظ ہیں ۔ ہندوستان میں تقریباً 60 کروڑ ڈیبٹ کارڈس کارکرد ہیں ۔ جن میں 19 کروڑ ہندوستان ہی میں تیار کردہ RuPay کارڈس ہیں ۔ مابقی ویزا اور ماسٹر کارڈس ہیں ۔ ایس بی آئی نے اب تک 6 لاکھ کارڈس واپس طلب کرلئے ہیں جبکہ بینک آف بڑودہ ، آئی ڈی بی آئی بینک ، سنٹرل بینک اور آندھرا بینک نے بھی احتیاطی اقدام کے طور پر کئی صارفین کے ڈیبٹ کارڈس تبدیل کردیئے ۔ کنارا بینک نے اپنے صارفین سے کہا ہے کہ  وہ پن نمبر تبدیل کردیں ورنہ ان کے کارڈس بلاک کردیئے جائیں گے ۔ اسی طرح خانگی شعبہ کے آئی سی آئی سی آئی بینک ، ایچ ڈی ایف سی بینک اور یس بینک نے بھی صارفین کو اے ٹی ایم پن نمبر تبدیل کردینے کی ہدایت دی ہے ۔ یہ سکیورٹی رخنہ اندازی ہیتاشی پیمنٹس سرویسیس کے سافٹ ویئر سسٹم میں ہوئی ہے ۔ یہ سسٹم یس بینک اور دیگر سفید لیبل کے حامل اے ٹی ایم نیٹ ورک کیلئے کارکرد ہے ۔

TOPPOPULARRECENT