Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / مختلف طبقات میں عدم رواداری کے خاتمہ پر زور

مختلف طبقات میں عدم رواداری کے خاتمہ پر زور

مذہب، ذات پات کے نام پر امتیازی سلوک ناقابل قبول : راجناتھ سنگھ
نئی دہلی ۔ 21 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے مختلف طبقات کے درمیان بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے مذہب کے نام پر چلائی جانے والی سیاست کو مسترد کردیا اور کہا کہ محض عقائد، ذات پات اور نسل کی بنیاد پر کسی کے خلاف امتیاز نہیں برتا جانا چاہئے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دادری، فریدآباد اور پنجاب میں پیش آئے حالیہ واقعات کے سبب مقامی عوام میں پیدا شدہ کشیدگی کے پیش نظر دسہرہ کے موقع پر عوام سے امن و اتحاد کی اپیل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے بارے میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے موصول ہونے والی خبریں انتہائی پریشان کن ہیں۔ ’’یہ مسائل ہمارے لئے باعث تشویش ہیں‘‘۔ راجناتھ سنگھ نے جو پولیس کے موضوعات پر مبنی ایک مفکر ادارہ کے افتتاح کے بعد خطاب کررہے تھے مزید کہا کہ دسہرہ تہوار سے ایک دن قبل وہ عوام سے اپیل کررہے ہیں کہ اس حقیقت کو یاد رکھا جائے کہ ہندوستان ہی واحد ملک ہے جس نے دنیا کو ’’آفاقی خاندان‘‘ کا پیغام دیا تھا۔

نہوں نے کہا کہ ’’مذہب، ذات پات، فرقہ یا نسل کی بنیاد پر عدم رواداری کی کوئی شکایت موصول نہیں ہونی چاہئے‘‘۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ مذہب یا فرقہ کے نام پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ فریدآباد اور پنجاب کے تازہ واقعات انتہائی بدبختانہ اور قابل مذمت ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں ریاستوں کے چیف منسٹروں سے بات چیت کرچکے ہیں تاکہ ان واقعات کے بعد امن و قانون کی بحالی و برقراری کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے آج منائے جانے والے قومی یوم پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران قربانی دینے والے پولیس اور نیم فوجی دستوں کے شہیدوں کو آج کے دن خراج عقیدت ادا کیا جاتا ہے۔ ہر کسی کو اس ملک میں امن کو یقینی بنانے کا عہد کرنا چاہئے، جس کیلئے بے شمار پولیس اہلکار اپنی جان قربان کرچکے ہیں۔ پولیس کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی پولیس کی شبیہہ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ کہا جاتا ہیکہ عوام جب پولیس والوں کو دیکھتے ہیں تو ان میں خوف کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اس رجحان کو تبدیل کیا جانا چاہئے تاکہ ’’خاکی وردی‘‘ دیکھنے پر عوام میں خوف کے بجائے اعتماد کا احساس پیدا ہوسکے۔ وزیرداخلہ نے ریمارک کیا کہ پولیس فورسیس میں بہتری اور پولیس اصلاحات کیلئے مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے کئی مشاورتی نوٹ روانہ کئے گئے ہیں لیکن کئی ریاستوں میں تاحال ان پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT