Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مخدوش عمارتوں کے انہدام کا فیصلہ

مخدوش عمارتوں کے انہدام کا فیصلہ

مانسون کے پیش نظر جی ایچ ایم سی کا احتیاطی اقدام
حیدرآباد۔21جولائی (سیاست نیوز) دونوں شہروں میں جاری ہلکی و تیز بار ش سے ہونے والے نقصانات کو روکنے کیلئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر میں موجود مخدوش عمارتوں کی فہرست تیار کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کرنے اور منہدم کرنے کے متعلق غور کیا جا رہا ہے ۔ مانسون کی آمد اور شہر میں ہلکی اور تیز بارش کے سبب مخدوش عمارتوں کو پیدا ہونے والے خطرات اور نقصانات کو روکنے کیلئے ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کرتے ہوئے اعلی عہدیداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ مخدوش رہائشی و تجارتی جائیدادوں کا تخلیہ کرواتے ہوئے انہیں منہدم کیاجائے ۔ ذرائع کے بموجب دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں200سے زائد ایسی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو انتہائی مخدوش حالت میں ہیں لیکن بلدی عہدیدار اس بات کا بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ ان میں بعض عمارتیں مخلوعہ ہیں جنہیں منہدم کیا جانا ہے۔ اسی طرح بعض عمارتوں میں رہنے والے عمارتوں کا فوری تخلیہ کرنے تیار نہیں ہیں جس کے سبب انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے بموجب مسلسل بوندا باندی اور ہلکی و تیز بارش مخدوش عمارتوں کے لئے خطرہ ہوتی ہے اور اکثر مانسون کے دوران اس طرح کی بارش سے دیوار گرنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ بلدی عہدیداروں کے بموجب سال گذشتہ بلدیہ کی جانب سے 150سے زائد عمارتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں تخلیہ و انہدام کا نوٹس جاری کیا گیا تھا جن میں زائد از 97عمارتوں کو منہدم کروا دیا گیا ہے جو انتہائی ابتر ہو چکی تھیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود مخدوش عمارتوں کے مالکین اور ان میں مقیم افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بلدیہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کیلئے کوشاں ہے جبکہ ایسا کرنے سے قدیم مخدوش عمارتوں سے متصل عمارتوں اور پڑوس میں رہنے والے شہریوں کو نقصانات کا خدشہ ہوتا ہے اسی لئے بلدیہ کو چاہئے کہ وہ ان عمارتوں کی فہرست کو عام کرے تاکہ شہریوں کو بھی اس بات کا پتہ چلے کہ جی ایچ ایم سی نے کن عمارتوں کو مخدوش قرار دیا ہے اور کونسی عمارات شہریوں کیلئے خطرہ ہو سکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT