Monday , May 29 2017
Home / مضامین / مدرسوں کا آر ایس ایس اسکولوں سے کیا تقابل؟

مدرسوں کا آر ایس ایس اسکولوں سے کیا تقابل؟

رام پنیانی
ڈگ وجئے سنگھ کے ٹوئٹ ’مدرسے اور سرسوتی شیشو مندریں (ایس ایس ایم) دونوں ہی نفرت پھیلاتے ہیں‘ (23 فبروری 2017) پر  مختلف النوع گوشوں کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک طرف مسلم گروپوں نے انھیں مدارس کو بُرائی کا مسکن باور کرانے پر ہدف تنقید بنایا ہے، وہیں آر ایس ایس حامیوں نے ایس ایس ایم کی افادیت کی تصدیق کی اور ان پر تنقید کی کہ ایس ایم ایم کا تقابل مدرسوں سے کیا جو اُن کی دانست میں ’دہشت کی آماجگاہیں‘ ہیں۔
مدرسوں کو برائی کا مسکن باور کرانے کا عالمگیر رجحان خصوصیت سے 9 سپٹمبر (9/11) 2001ء کے بعد شروع ہوا، جب امریکی میڈیا نے ’اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح کو خوب پھیلایا۔ یہی وقت تھا جب پاکستان کے مدرسوں کے تربیت یافتہ طالبان۔ القاعدہ کا رول منظرعام پر آیا۔ ایسے چند مدارس میں دی جانے والی تعلیم عمومی طور پر ’مدرسوں‘ کے ساتھ منسوب ہوگئی۔ یہ سچائی سے بالکلیہ پرے ہے کیونکہ پاکستان میں وہ مدرسے جہاں دہشت کے نفرت انگیز افکار سکھائے گئے تھوڑی تعداد میں ہیں اور کسی بھی طرح مدرسہ تعلیم اور اس کے نظام کے نمائندہ نہیں ہیں۔

ہندوستان میں مدرسوں کی تعلیم کافی قدیم ہے۔ یہ بڑی حد تک بالخصوص قرآن کی تلاوت اور اسے حفظ کرنے کے مرحلوں تک محدود ہوتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں مذہبی اور سکیولر تعلیم کی طویل تاریخ ہے۔ اسلام پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مذہبی تعلیم اور علماء کی تربیت کے نتیجے میں کئی معروف درس گاہیں جیسے دیوبند اور بریلوی قائم ہوئے۔ مسلمانوں میں سکیولر ایجوکیشن کی شروعات سرسید احمد خان کی کوششوں کے ساتھ ہوئی، جنھوں نے مسلمانوں میں جدید، منطقی اور سائنسی تعلیم کو متعارف کرانے میں زبردست حصہ ادا کیا۔ یہ بات نوٹ کیجئے کہ زیادہ تر درس گاہوں کے مولانا حضرات برطانوی راج کے خلاف، تحریک آزادی کے حامی اور تقسیم ہند کے مخالف رہے۔

آج ہندوستان میں مدرسہ تعلیم بمشکل 2-3% مسلم بچوں تک محدود ہوگئی ہے۔ اکثر غریب، نادار مسلمان اپنے بچوں کو وہاں بھیجتے ہیں۔ یہ مدرسے بھی عموماً ایسے علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں ’پبلک اسکولنگ سسٹم‘ تک رسائی کی شرح اونچی نہیں ہے۔ بعض مدرسے بچوں کیلئے کھانے اور رہنے کا انتظام بھی کرتے ہیں جو غریب مسلمانوں کیلئے اضافی ترغیب ہے کہ اپنے بچوں کو وہاں بھیجیں، یعنی اصل دھارے والے سسٹم سے دور، جو بہرحال اُن کی سکت سے باہر کا معاملہ ہے۔ ویسے تو یہ مدرسے ماڈرن ایجوکیشن کے ساتھ رفتار پوری طرح قائم نہیں رکھ پاتے ہیں، لیکن بعض مقامات پر ان مدرسوں نے انگریزی، ریاضی، اور دیگر سکیولر مضامین متعارف کرائے ہیں۔
اس کے برخلاف پاکستان کے چند مدرسے جہاں القاعدہ اور اس کی قبیل والوں کو ٹریننگ دی گئی، دراصل امریکی منصوبہ کا حصہ رہے کہ ایسے جنونی گروہوں کو پروان چڑھایا جائے جن کو سویت فورسیس کے خلاف لڑائی میں گھسایا جاسکے جو سرد جنگ کے اواخر میں افغانستان پر قابض تھیں۔ پاکستان میں قائم ان مدرسوں نے اسلام کی بگڑی شکل اختیار کرلی، بالکلیہ کٹرپسندی؛ اور جہاد کے نام پر کافروں کے خلاف تشدد کو بڑھاوا دینا۔ یہ مدرسوں کو مغربی ایشیا کے ذخائر تیل پر کنٹرول حاصل کرنے کے امریکی مقاصد کے تحت تائید و حمایت حاصل ہوئی۔ ان کے نصاب کو ایک اعتبار سے سسٹم کہہ سکتے ہیں۔ یہ مدرسوں کی عمومی خاصیت سمجھی جانے لگی اور وہیں سے نفرت کا مسئلہ ابھرنے لگا۔ یہی چیز اس ٹوئٹ میں بھی نظر آرہی ہیکہ مدرسوں اور سرسوتی شیشو مندروں میں نفرت کا پرچار ہوتا ہے۔ اسی طرح ماضی میں بدھادیب بھٹاچاریہ، سی ایم مغربی بنگال نے بھی مدرسوں کے بارے میں منفی لہجہ میں تبصرہ کیا تھا۔
بالکلیہ مختلف دھارے پر آر ایس ایس اتحاد نے ہندو راشٹر کے اصل مقصد کی طرف کام کرتے ہوئے یہ سرسوتی شیشو مندریں قائم کئے ہیں جو اس اتحاد کے تشکیل شدہ دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ہندو قوم پرستی کے عالمی نظریہ کو فروغ دینے والے اسکولز ہیں۔ وہ اپنے نصاب کے بعض حصوں کی وجہ سے وقفے وقفے سے شہ سرخیوں میں آتے رہتے ہیں۔ مسلم بادشاہوں کی بُرائی، ہندو بادشاہوں کی مدح سرائی، اسلام کا تلوار کے زور پر پھیلنا، کرسچن مشینریز کی سازش، ہمارے ملک کیلئے سکیولرازم کی غیرموزونیت، بھارت پر مغربی سکیولرازم تھوپنے میں گاندھی۔نہرو کی بدعقلی جیسے موضوعات ان اسکولوں کے نصاب کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ نیز یہ کہ ذات پات و جنس پر مبنی امتیازات اور ہٹلر و مسولینی کی قوم پرستی کی تعریفیں کرنا دراصل وہ بنیاد ہے جس پر ان اسکولوں کے بچوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ یہی باتیں ہیں جو ان اسکولوں کے اسٹوڈنٹس کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلق سے مختلف سوچ رکھنے پر اُکساتا ہے۔ اسی سبب گاندھی اور نہرو کو ان اسکولوں کے ’پراڈکٹس‘ گرا کر دیکھتے ہیں۔

ان کا نصاب تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے تاکہ مذہبی اقلیتوں کیلئے ناپسندیدگی پیدا کی جائے، نیز یہ نصاب واجبی سوچ و فکر اور سائنسی مزاج کی اہمیت گھٹاتا ہے اور اس دیومالا یا میتھالوجی کو فروغ دیتا ہے ، ’’ہم دنیا کو سکھانے والے رہے ہیں، تمام تر حکمت اور سائنسی کارناموں سے بہرہ مند ہیں جیسے پلاسٹک سرجری، علم ہوابازی، وغیرہ۔‘‘ ان باتوں کو سماج میں بہت عیارانہ انداز میں اور گیرائی کے ساتھ آہستہ آہستہ پیوست کیا جارہا ہے؛ جس سے فرقہ واریت کی بنیاد مضبوط ہورہی ہے جو آر ایس ایس پروپگنڈے کا حصہ رہا ہے۔ یوں اسے کوئی مذہبی تعلیم نہیں کہہ سکتے، بلکہ یہ فرقہ واری قوم پرستی کے سیاسی ایجنڈے سے حاصل کردہ تحریک پر مبنی ہے۔اچھے اور بُرے میں تمیز کرنے کی فوری اور بڑی ضرورت ہے۔ اگرچیکہ پاکستان میں قائم بعض مدرسوں نے اپنی کٹرپسند سوچ سے اختلاف رائے رکھنے والوں کیلئے نفرت کے بیج اس حد بودیئے کہ ان سے اختلاف کرنے والوں کے خلاف تشدد اختیار کئے، لیکن مدرسوں کی اکثریت مراکز برائے اسلامی تعلیم ہے۔ اس کے برخلاف ایس ایس ایم ایسے اسکولز ہیں جو ہندوتوا سیاسی سوچ و فکر کے خطوط پر تعلیم دیتے ہیں۔

وہ مدرسوں کو چھوڑیئے جہاں القاعدہ کارندے تیار کئے گئے، مجموعی طور پر سارا مدرسہ نظام نہایت مختلف النوع ہے۔ ان سب کو نفرت پھیلانے کے یکساں زمرہ میں ہرگز نہیں رکھا جاسکتا، جس طرح مسٹر سنگھ نے کیا ہے۔ اس طرح کا اظہار خیال سطحی معلومات، حقائق سے بعید ہے اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر سنگھ جیسے قائدین یہ سمجھنے کیلئے ضروری چھان بین کرنے کیلئے آمادہ نہیں کہ مغربی ایشیا میں دہشت گردی کیونکر شروع ہوئی، اس کا سبب تو اسلام کا سوانگ رچاتے ہوئے تیل کی دولت پر کنٹرول کی سیاست چلانا ہے۔ یہ چند مثالوں سے اخذ کردہ بے بنیاد نتیجہ ہے جو اقلیتوں کو بُرے لوگ باور کراتا ہے اور اُن کے خلاف شبہ کے بیج بوتا ہے جو ہمارے ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT