Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مدھول میں دسہرہ جلوس کے موقع پر اقلیتوں پر حملے

مدھول میں دسہرہ جلوس کے موقع پر اقلیتوں پر حملے

مکانات پر سنگباری ‘ ضعیف افراد بھی نشانہ ۔ 5 زخمی ۔ حیدرآباد و ریاست بھر میں چوکسی
حیدرآباد /23 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ میں پرامن فضاء کو مکدر کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے اور آج ضلع عادل آباد کے مدھول علاقہ میں اشرار کی جانب سے درگا جلوس کے دوران اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا ۔ یہ واقعہ آج رات دیر گئے پیش آیا جس کے بعد مدھول اور اس کے اطراف و اکناف علاقوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ تفصیلات کے بموجب دسہرہ کے موقع پر نکالے جانے والے درگا جلوس کا انعقاد عمل میں آیا تھا ۔ جلوس میں شامل اشرار نے اقلیتی نوجوانوں کی گاڑی کو ٹکر دے دی ، اس واقع کو فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے ایک منظم سازش کے طور پر اقلیتی افراد کو نشانہ بنایا گیا ۔ اشرار نے مدھول علاقہ میں اقلیتوں کے مکانات کو نشانہ بنایا اور ضعیف اشخاص پر بھی حملہ کیا جس میں پانچ افراد زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ اشرار نے اقلیتوں کی گاڑیوں کو بھی آگ لگادی اس کے بعد علاقہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ مدھول علاقہ جو بھینسہ سے 15 کیلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور یہ علاقہ فرقہ وارانہ طور پر حساس ہے  ۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ اشرار کی جانب سے سنگ باری اور حملہ کے بعد پولیس متاثرہ علاقہ میں تاخیر سے پہونچی جس کے سبب اشرار کے حوصلہ بلند ہوگئے اور اشتعال انگیز نعرے لگاکر اقلیتوں کو خوف زدہ کر رہے تھے ۔ پولیس نے اشرار کو منتشر کرنے لاٹھی چارج کیا ۔ عادل آباد سپرنٹنڈنٹ پولیس مسٹر ترون جوشی نے بتایا کہ وہ مدھول میں کیمپ کئے ہوئے ہیں اور حالات پر قابو پالیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بھینسہ اور مدھول میں جاری ماتا جلوس کے پیش نظر چوکسی میں اضافہ کردیا گیا ہے اور حساس علاقوں میں پولیس گشت بڑھا دی گئی ہے ۔ عادل آباد کے واقعہ کے ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع بشمول حیدرآباد سٹی پولیس نے چوکسی اختیار کرلی ۔ دونوں شہروں میں بھی ماتا جلوس نکالے جانے کے پیش نظر تمام پولیس اسٹیشن کے انسپکٹران اور پٹرولنگ عملہ کو چوکس کردیا گیا ہے ۔ کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر مہیندر ریڈی نے آج رات حالات کا جائزہ لیا اور پولیس عہدیداروں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ۔

TOPPOPULARRECENT