Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / مدھیہ پردیش میں شرعی اصولوں کے بغیر 3 طلاق کالعدم

مدھیہ پردیش میں شرعی اصولوں کے بغیر 3 طلاق کالعدم

مسلم نوجوان نے طلاق دینے کے اصولی طریقہ کو اختیار نہیں کیا۔ عدالت کا فیصلہ

اجین ۔ /23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش کی ایک فیملی کورٹ نے ایک شخص کی جانب سے اپنی بیوی کو دی گئی 3 طلاق کو کالعدم قرار دیا ۔ کیوں کہ اس نے شرعی اصولوں کے بغیر 3 طلاق دی تھی ۔ اس معاملہ میں مسلم نوجوانوں نے مسلم مذہبی کتاب میں دی گئی ہدایات کو اختیار نہیں کیا تھا ۔ ایڈیشنل پرنسپل جج فیملی کورٹ پرکاش شرما نے /9 مارچ کو ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے احساس ظاہر کیا تھا کہ مسلم نوجوان توصیف شیخ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا وہ غیر قانونی اور غیر موثر ہے ، لہذا یہ طلاق فسخ ہوجاتی ہے ۔ مسلم خاتون عرشی خاں نے /19 جنوری 2013 ء کو دیوس سے تعلق رکھنے والے توصیف شیخ سے شادی کی تھی کچھ دنوں بعد توصیف نے اپنی بیوی سے رقمی مطالبہ کرنا شروع کردیا جب اس کے مطالبہ کو پورا نہیں کیا گیا تھا اس نے اپنی بیوی کو پریشانی میں ڈالنا شروع کردیا ۔ متاثرہ خاتون کے وکیل اروند گوڑ نے کہا کہ ہراسانی کا سلسلہ چلتا رہا ۔ کچھ دنوں بعد خاتون اپنے شوہر کا گھر چھوڑکر چلی آئی اور اپنے والدین کے گھر میں قیام کرنے لگی ۔ بعد ازاں اس نے توصیف کے خلاف ایک انسداد جہیز ہراسانی قانون کے تحت کیس درج کروایا اور یہ کیس عدالت میں ہنوز زیردوران ہے ۔ اس دوران /9 اکٹوبر 2014 ء کو توصیف نے اجین عدالت کے احاطہ میں ہی عرشی کو زبانی طور پر طلاق دیدی ۔ جہاں وہ دوسرے کیس کے سلسلہ میں آیا تھا ۔

بعد ازاں اس نے نوٹس کے ذریعہ طلاق کی اطلاع دی کہ اس نے 3 طلاق کہتے ہوئے اس کو اپنی زوجیت سے خارج کردیا ہے جبکہ وہ اس دن عدالت کے احاطہ کے باہر آرہا تھا ۔عرشی نے شرعی قوانین میں وضع کئے گئے طریقہ کار سے ہٹ کر طلاق دینے کو چیلنج کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اس معاملہ میں شرعی اصولوں کو ملحوظ نہیں رکھا ہے ۔ عدالت نے بھی طلاق دینے کے طریقہ کار میں خامیوں کو پاکر کہا کہ توصیف اپنے جواب میں یہ وضاحت یا نشاندہی کرنے سے ناکام رہا کہ آخر اس نے کس طریقہ سے یعنی طلاق احسن یا طلاق حسن کے طور پر اپنی بیوی کو طلاق دی ہے ۔ جج نے کہا کہ توصیف نے عدالت کے احاطہ میں عرشی کی موجودگی کا قابل اعتبار ثبوت دینے میں بھی ناکام رہا جیسا کہ اس نے 3 طلاق دینے کا اعلان کرتے ہوئے نشاندہی کی تھی جبکہ شرعی قوانین کے مطابق طلاق دینے کے لازمی اصول کو نظر انداز کیا گیا ۔ عدالت نے یہ بھی احساس ظاہر کیا کہ اس مسئلہ پر شرعی قوانین کے مطابق کسی سمجھوتہ یا صلاح و مشورہ کرنے کے لئے متعلقہ فریقین کی جانب سے کی گئی کوشش کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ عدالت نے اپنا فیصلہ سنانے سے قبل دیگر عدالتوں کی جانب سے دیئے گئے مختلف فیصلوں کا بھی جائزہ لیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT