Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / مدھیہ پردیش ہائی کورٹ جج کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایت

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ جج کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایت

تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کی تبدیلی۔ نائب صدر جمہوریہ کا فیصلہ
نئی دہلی۔/11فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا کے صدر نشین نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ جج کے خلاف جنسی ہراسانی کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے سپریم کورٹ جج جسٹس رنجن گگوئی کو نامزد کی جبکہ موجودہ سربراہ جسٹس وکرمجیت سین وظیفہ حسن پر سبکدوش ہوگئے ہیں۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے حال ہی میں یہ رائے پیش کی تھی کہ جسٹس وکرمجیت سین جوکہ گزشتہ سال 11ڈسمبر کو ریٹائرڈ ہوگئے تھے، ججس انکوائری ایکٹ 1968کے تحت تحقیقاتی کمیٹی سربراہ کی حیثیت سے برقرار رہ سکتے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل سے دریافت کیا گیا تھا کہ وظیفہ پر سبکدوشی کے باوجود کوئی جج تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کرسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ مسئلہ صدر نشین راجیہ سبھا حامد انصاری کی صوابدید پر چھوڑ دیا تھا کہ آیا وہ جسٹس سین کی خدمات برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا پھر کوئی دوسرا برسر خدمت جج نامزد کرنا چاہتے ہیں۔ وزارت قانون نے جسٹس سین کو مفوضہ فرائض سے ہٹادینے کی سفارش کی تھی۔ جس پر نائب صدر جمہوریہ نے تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل نو کا فیصلہ کیا ہے ۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں جسٹس رنجن گوگوئی ( سپریم کورٹ ) جسٹس منجولہ چیلیورو چیف جسٹس کوکولکتہ ہائی کورٹ اور کے کے وینو گوپال سینئر ایڈوکیٹ ( سپریم کورٹ ) شامل ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال مارچ میں 58ارکان پارلیمنٹ نے صدر نشین حامد انصاری کو ایک تحریک پیش کرتے ہوئے گوالیار میں ایک خاتون جج کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں جسٹس گنگیلے کی سرزنش کرنے کی درخواست کی تھی جس کو قبول کرلیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT