Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مدینہ ایجوکیشن سوسائیٹی کے اداروں کو تحویل میں لینے کی تیاری

مدینہ ایجوکیشن سوسائیٹی کے اداروں کو تحویل میں لینے کی تیاری

تمام عمارتیں وقف ‘ وقف فنڈ کی عدم ادائیگی ۔ صدر نشین بورڈ الحاج محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد۔/15 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلنے والے اداروں کو اپنی تحویل میں لینے کی تیاری شروع کردی ہے۔ صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کی تمام عمارتیں وقف ہیں اور وقف بورڈ نے 2 سال قبل ہی عمارتوں کو اپنی تحویل میں لینے کی کارروائی کی تھی۔ نامعلوم وجوہات کے سبب عہدیداروں نے عمارتوں کا کنٹرول حاصل نہیں کیا جس کے سبب سابقہ انتظامیہ کا کنٹرول جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ تعلیمی اداروں اور عمارتوں کو بہت جلد اپنی تحویل میں لے گا۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کے تحت چلنے والے تمام ادارے وقف کے تحت آتے ہیں اور پابندی سے وقف فنڈ ادا نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہر کی اہم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے کسی دباؤ کے بغیر کارروائی کریں گے۔ محمد سلیم نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ اس سلسلہ میں کسی بھی بڑی شخصیت کے دباؤ کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی سے مرعوب ہوں گے۔ درگاہ یوسفینؒ کے متولی کی میعاد کے بارے میں پوچھے جانے پر محمد سلیم نے کہا کہ جاریہ ماہ موجودہ متولی کی میعاد ختم ہورہی ہے جس کے بعد آئندہ بورڈ میٹنگ میں میعاد میں توسیع سے متعلق درخواست پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ فینانشیل پاور کے بغیر میعاد میں توسیع کرسکتا ہے جس کے تحت متولی صرف نگرانکار کے طور پر رہے گا جبکہ کرایہ جات کی وصولی اور تمام ہنڈیاں وقف بورڈ کی نگرانی میں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ متولی کی درخواست زیر التواء ہے جس پر فیصلہ بورڈ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ اور کرایوں کی وصولی کیلئے منگل سے باقاعدہ مہم شروع کی جارہی ہے۔ منگل کے دن وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار نبی خانہ مولوی اکبر پتھر گٹی میں کیمپ کریں گے اور 700 سے زائد ملگیوں کے کرایہ جات معہ بقایا جات وصول کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پولیس کی مدد لی جائے گی۔ صدر نشین وقف بورڈ نے کہا کہ اہم اوقافی جائیدادوں کا کرایہ حاصل نہ ہونے کے سبب بورڈ مالیاتی بحران سے دوچار ہے اور تنخواہوںکی ادائیگی کیلئے فنڈز نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین تا پانچ سال کے کرائے ادا نہیں کئے گئے اور خصوصی مہم کے ذریعہ حالیہ دنوں میں 56 لاکھ روپئے وصول ہوئے ہیں جو ناکافی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سابق میں جس وقت وہ وقف بورڈ کے صدرنشین تھے انہوں نے کرایوں کی وصولی کے ذریعہ 35 کروڑ روپئے بورڈ کے خزانے میں جمع کئے تھے۔انہوں نے کہا کہ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے بعد وہ مختلف فلاحی کام شروع کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ غریب طلبہ کو نوٹ بکس کی تقسیم، بیواؤں کو وظائف اورعلاج کیلئے امداد فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کے مفت علاج کے سلسلہ میں ہاسپٹل کے قیام پر غور کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT