Thursday , March 23 2017
Home / اداریہ / مذموم اور غیر انسانی حرکت

مذموم اور غیر انسانی حرکت

ہو چلیں وابستہ اُن سے کچھ مری رسوائیاں
اب خدا جانے کہاں تک غم کے افسانے گئے
مذموم اور غیر انسانی حرکت
لاہور میں حضرت لال شہباز قلندر ؒ کی درگاہ کے احاطہ میں ہوا بم دھماکہ انتہائی بدترین غیرانسانی حرکت ہے ۔ اس میں 100 سے زیادہ بے گناہ افراد ہلاک اور درجنوں دوسرے زخمی ہوگئے ہیں۔ دہشت گرد گروپ آئی ایس نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ آئی ایس دنیا بھر میں ایسی غیر انسانی اور غیر اسلامی حرکتیں کرنے میں مصروف ہے جن کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ حضرت لال شہباز قلندر ؒ کی درگاہ میں یہ دوسرا موقع ہے جب اس طرح کی حرکت کی گئی ہے ۔ ماضی میں بھی ایک ایسا ہی حملہ وہاں کیا گیا تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایسی حرکتیں کرنے والے اپنے نشانوں کے انتخاب میں کس طرح سے کام کرتے ہیں۔ کل شام کے وقت کیا گیا دھماکہ اسلام اور مسلمانوں کو رسوا کرنے کی ایک اور کوشش ہے اور اسے انسانیت کے خلاف بھی سنگین جرم قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یہاں لوگ ایک عقیدہ اور جذبہ کے ساتھ آتے ہیں۔ اس سے کسی کواختلاف ضرور ہوسکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ انہیں بم دھماکہ کا نشانہ بناتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ ویسے تو سارے پاکستان میں اس طرح کے دھماکے معمول کی بات ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں انسانیت کو مسلسل رسوا اور شرمسار کیا جا رہا ہے اور اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکتیں ہو رہی ہیں۔ کل جو حملہ ہو ا ہے اس کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی جا رہی ہے ۔ اقوام متحدہ نے اس حملہ کی مذمت کی ہے ۔ ہندوستان نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ ایسی کارروائی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور دنیا بھر میں اس کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنا اب وقت کی ضرورت بن گیا ہے ۔ اس طرح کے حملوں میں انسانیت کے خلاف ظلم اور قتل و غارت گری کا ننگا ناچ ناقابل برداشت ہوتاجا رہا ہے ۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہو رہا ہے جبکہ اسلام نے دنیا کو اس طرح کی حرکتوں کے خلاف پیام دیا ہے ۔ دنیا میں امن و آشی کا پیام اسلام نے دیا ہے اور آج اسی اسلام کے نام پر ایسی غیر اسلامی اور غیر انسانی حرکتیں کی جا رہی ہیںجو قابل مذمت ہے ۔ جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں انہیں کیفر کردار تک پہونچانے کیلئے سبھی گوشوں کو متحد ہونا پڑے گا ۔ جب تک ان کے خلاف متحدہ کارروائی نہیں ہوتی انہیں کیفر کردار تک پہونچانا آسان نہیں ہوگا ۔
اس حملہ کے بعد پاکستان میں فوج اور حکومت سرگرم ہوگئے ہیںاور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا بھی آغاز کردیا گیا ہے ۔ کسی کارروائی کے بعد حرکت میں آتے ہوئے کچھ کرنا کافی نہیں ہوتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے حملوں کے وقوع پذیر ہونے سے قبل ہی ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ انہیں نشانہ بناتے ہوئے ان کا خاتمہ کیا جائے ۔ علاوہ ازیں صرف چندعناصر کو نشانہ بنانا بھی کافی نہیں ہے ۔ اس کے خلاف موثر حکمت عملی تیار کرنے اور حکومت کو اس کیلئے تیار ہونے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو اس معاملہ میں سیاسی عزم اور حوصلہ پیدا کرنا ہوگا ۔ حکومت پاکستان کو ایسے عناصر کے خلاف اپنی پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے ۔ ان کے تعلق سے نرم گوشہ اختیار کرنے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج یہ لوگ مذہبی مقامات تک کو نشانہ بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردوں کی تائید و مدد کرنے کے علاوہ انہیں امداد فراہم کرنے کی جو پالیسی اختیار کی تھی آج وہی پالیسی اس کیلئے جنجال بن گئی ہے ۔ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد اور ان کے نیٹ ورکس بڑی تیزی سے پھل پھول رہے ہیں اور یہ عناصر خود پاکستان کے وجود کیلئے خطرہ بن گئے ہیں۔ یہ ساری انسانیت کیلئے خطرہ ہیں ۔ سارے علاقہ کیلئے خطرہ ہیں اور ساری دنیا کیلئے خطرہ ہیں۔
حکومت پاکستان کو کم از کم اب ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے ۔ اسے دہشت گردوں کی تائید و حمایت اور انہیں امداد فراہم کرنے کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا ۔ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا وہاں اس طرح کے غیر انسانی حملے ہوتے رہیں گے ۔ انہیں روکنا حکومت اور پاکستانی فوج کے بھی بس کی بات نہیں ہوگی ۔ پاکستان کی حکومت اور وہاں کی نفاذ قانون کی ایجنسیاں اگر ایسے حملوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوتی ہیں تو پھر انسانیت اسی طرح حملوں کا نشانہ بنتی رہے گی اور غیر انسانی حملوں میں انسانی جانوں کے اتلاف کا سلسلہ برقرار رہے گا ۔ حکومت اور فوج کو باہمی تال میل اور ایک مشترکہ مقصد کے ساتھ ایسے عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے اور ان کے نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے حملوں کا اعادہ نہ ہونے پائے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT