Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کی اجازت نہیں دی جاسکتی

مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کی اجازت نہیں دی جاسکتی

ہندوستان ‘ رواداری کی یونیورسٹی ۔ عیسائی قائدین سے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا خطاب

نئی دہلی 14 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان کو رواداری کی یونیورسٹی قرار دیتے ہوئے وزْر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج واضح کیا کہ ملک میں مذہبی ظلم و ستم کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ انہوں نے انڈیا کرسچین کونسل میں عیسائی لیڈرس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پر امن وجود کیلئے رواداری ضروری ہے ۔ تمام مذاہب کے لوگ ہندوستان میں پر امن طریقے سے رہتے ہیں اور کسی امتیاز کے خوف کے بغیر اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں۔ اسی لئے ہندوستان رواداری کی یونیورسٹی ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ عیسائیت تقریبا 2,000 سال قبل ہندوستان آئی تھی اور کیرالا میں سینٹ تھامس چرچ ہے جو دنیا کے قدیم ترین گرجوں میں شمار ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سینٹ تھامس سے مدر ٹریسا تک عیسائیوں کے رول کو فراموش نہیں کرسکتا جنہوں نے ہمارے ملک میں برائیوں کا خاتمہ کرنے کی جدوجہد کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں اسمبلی انتخابات سے قبل گرجا گھروں پر حملوں کے واقعات پیش آئے تھے ۔ لیکن وہ کہنا چاہتے ہیں کہ انتخابات کے قبل ہو یا بعد میں ہو مذہبی ظلم و ستم کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔ پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ہندوستان نے سکیولر ملک رہنے کا فیصلہ کیا جبکہ پاکستان نے خود کو مذہبی مملکت قرار دیدیا اور اب وہ سرکاری پالیسی کے طور پر دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں ہندوستان کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا اس کے باوجود ہندوستان نے خود سکیولر رہنے کا فیصلہ کیا ۔ جو قوم ہندوستان سے الگ ہوئی اس نے خود کو مذہبی مملکت قرار دیدیا اور اب وہ دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے ۔

TOPPOPULARRECENT