Friday , August 18 2017
Home / مضامین / مذہبی جنونیوں سے ملک کو پاک کرنے کی ضرورت

مذہبی جنونیوں سے ملک کو پاک کرنے کی ضرورت

ظفر آغا
6 دسمبر 1992 کو جب بابری مسجد شہید کی گئی تو ساری دنیا حیرت میں پڑگئی  ۔ یہ حیرت محض اس لئے نہیں تھی کہ اس جدید دور میں جبکہ پوری دنیا تمام مذاہب کے احترام کو مہذب زندگی کا ایک اہم حصہ مان چکی ہے ، تب بھی بابری مسجد شہید کردی گئی ، بلکہ حیرت اس بات پر تھی کہ بابری مسجد شہید کرکے ملک کی اقلیت کو ذلیل و رسوا کرنے کا واقعہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں پیش آیا تھا ۔ آخر ہندوستان خود کو ایک سیکولر ملک تسلیم کرتا ہے پھر اس ملک کی گنگا جمنی تہذیبی روایت صدیوں پرانی روایت رہی ہے ۔ یہاں دنیا کے ہر بڑے مذہب نے پناہ لی ہے ۔ اس پس منظر میں بابری مسجد المیہ نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا ۔  اگر پچھلے چند ہفتوں میں ہونے والے واقعات پر نگاہ ڈالیں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں زیادہ فرق نہیں رہا ۔ اگر وہاں مذہبی جنون نے طالبان اور لشکر طیبہ پیدا کردیئے ہیں جو وہاں کی اقلیت ہی نہیں بلکہ وہاں کے مسلمانوں کے لئے بھی عذاب بن چکے ہیں تو ویسے ہی ہندوستان میں ہندوسینا اور شیوسینا جیسی درجنوں تنظیمیں ہیں جنہوں نے اس ملک کی اقلیتوں اور لبرل ہندوؤں دونوں کی زندگی حرام کردی ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں سیکولرازم اور لبرل ازم دونوں ہی موجودہ حالات میں کھوکھلے الفاظ نظر آتے ہیں جو شاید ہندوستان کے آئین میں کہیں لکھے تو ہوں مگر ہندوستانی سماج کا حصہ نہیں رہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دادری میں محمد اخلاق نام کے شخص کو لوگ گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں خود ان کے گھر میں گھس کر پیٹ پیٹ کر مار نہیں ڈالتے ۔ آج بیف اور گائے کے نام پر ہندو دہشت گرد تنظیموں نے ملک میں جو دہشت پھیلا رکھی ہے وہ کسی سیکولر اور لبرل ملک کا شیوہ نہیں ہوسکتا اور تو اور اب تو اس ملک میں خود کو لبرل کہنے والا ہندو بھی محفوظ نہیں ہے ۔ کیونکہ بنگلور میں تقریباً دو ماہ قبل ہندو دہشت گردوں نے کلبرگی نام کے ایک لبرل پروفیسر کو ان کے گھر میں گھس کر اس لئے گولی ماردی ، کیونکہ وہ ہندو انتہا پسندی کے خلاف تھے  ۔یہ واقعہ کچھ ویسا ہی تھا جیسا کہ پاکستان میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو وہاں کے مسلم دہشت گردوں نے گولی ماردی تھی۔
الغرض ان دنوں ہندوستان اکثریتی مذہبی جنون کا شکار ہے ۔ اس ملک کی اقلیتیں اس ماحول میں خود کو نہ صرف غیر محفوظ بلکہ دوسرے درجے کا شہری محسوس کررہی ہیں ۔ یہی الزام محمد علی جناح آزادی سے قبل گاندھی جی اور کانگریس پارٹی پر لگاتے تھے اور اسی بنیاد پر جناح صاحب نے 1947 میں ہندوستان کا بٹوارہ کرکے پاکستان کی بنیاد رکھی تھی ۔ تب ہی تو ان دنوں پاکستان میں ہندوستان مخالف لوگ یہ کہتے پھررہے ہیں کہ دیکھو جی ہم تو کہتے تھے کہ ہندوستان ایک ہندو ملک ہے جہاں سیکولرازم اور لبرل ازم محض ایک معمہ ہے ۔
حالات تو ایسے ہی ہیں کہ فی الحال سیکولرازم اور لبرل ازم دو کھوکھلے الفاظ اور بے معنی نظریئے نظر آتے ہیں ۔ جب حالات یہ ہوں کہ ملک کے لوگوں کا کھانا بھی اکثریت طے کرے تو پھر تو کہاں کا سیکولرازم اور لبرل ازم ۔ اور ان حالات میں اگر کوئی پاکستانی ہم ہندوستانیوں پر طنز کرے کہ ’’تم بھی اپنے جیسے نکلے‘‘ تو پھر تو گردن شرم سے جھکانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا ہے ، لیکن ٹھہریئے ! ابھی بھی ہندوستان اور پاکستان میں فرق ہے ۔ حالات  بھلے ہی سرحد کے دونوں جانب ملتے جلتے کیوں نہ ہوں ،لیکن آج بھی ہندوستان میں نین تارا جیسی شخصیتیں موجود ہیں ، جن کا ضمیر دادری جیسی دہشت کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے اور ایک نین تارا ہی کیا ، چند دنوں کے اندر ہندوستان کے طول و عرض میں درجنوں افراد نے ملک میں پھیلی بربریت کے خلاف ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور پدم شری جیسے اعزازات احتجاجاً حکومت کو لوٹادیئے ۔ اس احتجاج کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان اعزازات کو واپس کرنے والوں میں گنتی کے ایک یا دو مسلمان ہیں ، باقی سب ہندو مذہب میں یقین رکھتے ہیں  ۔ وہ ہندو ضرور ہیں لیکن اسی کے ساتھ ساتھ وہ سیکولر اور لبرل بھی ہیں اور وہ ہندوستانی آزادی کے اس بنیادی نظریہ میں آج بھی یقین رکھتے ہیں ، جس میں ہر ہندوستانی کو بغیر کسی مذہبی تفریق کے برابر شہری حقوق حاصل ہیں ۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ ہندوستانی آئین ان خیالات کو ملک کے آئین میں جگہ دیتا ہے بلکہ خود ہندو تہذیب نام نہاد ہندووادی تنظیموں کی حالیہ تنگ نظری کی مخالف ہے ۔ اگر آپ ہندو سماج کے بنیادی نظریہ پر نگاہ ڈالیں تو یہ بات ابھر کر آتی ہے کہ ’’ذات‘‘ ہندو سماج کی بنیاد ہے ۔ ذات کے نظریہ میں بہت سی برائیاں بھی ہیں ، لیکن اسی نظریہ میں ایک بہت اہم سماجی عنصر اور بھی موجود  ہے جو ہندو سماج کو بنیادی طور پر ایک سیکولر سماج بناتا ہے ۔ اور وہ عنصر یہ ہے کہ ذات پر مبنی سماج میں اولین دور میں یہ بات طے کردی گئی تھی کہ راج پاٹھ چھتریوں کا کام ہے اور گیان و دھرم کے معاملات برہمنوں کا فریضہ ہیں ۔ یعنی جب یوروپ میں مذہب کو اس طرح سے ریاست سے الگ نہیں کیا گیا تھا تو اس دور میں بھی ہندوسماج ، ہندو عقائد اور ہندو فلسفے نے مذہب اور ریاست کو تو دو الگ الگ سماجی گروہوں میں بانٹ کر ہندو تہذیب اور ہندو سماج کی بنیاد سیکولرازم پر رکھی تھی۔ ہندو تہذیب کی یہی بات ہے جو دادری جیسے ماحول میں بھی پوری طرح ایک کٹر دہشت گرد اور جنونی معاشرہ ہونے سے بچالیتی ہے اور اس سماج میں نین تارا سہگل جیسی آواز اٹھ کھڑی ہوتی ہے جو ہندو تہذیب کی کربناک آواز ہوتی ہے ۔
اس لئے ہندوستان میں بابری مسجد اور دادری جیسے واقعات تو ہوتے رہیں گے ، لیکن پھر بھی ہندوستان دوسرا پاکستان نہیں بن سکتا ۔ گھبرایئے مت ! بابری مسجد کے دور میں بھی اندھیرا ہی نظر آتا تھا ، پھر جلد ہی ملائم سنگھ اور کانشی رام کے اتحاد سے 1993ء میں بابری مسجد کو شہید کرنے والی طاقتوں کو اترپردیش اسمبلی میں سخت ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ کیا پتہ اب دادری کا جواب اگلے ماہ خود بہار کے ہندو بہار اسمبلی چناؤ میں دے دیں اور مجھ کو تو یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT