Wednesday , October 18 2017
Home / ہندوستان / مذہبی عقائد میں عدالتوں کی مداخلت، شیوسینا کا ردعمل

مذہبی عقائد میں عدالتوں کی مداخلت، شیوسینا کا ردعمل

ممبئی 20 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں ایک مذہبی رسم ’دہی ہانڈی‘ کے خلاف سپریم کورٹ کی تحدیدات پر سخت گیر موقف اختیار کرتے ہوئے شیوسینا نے آج کہا ہے کہ ہندو تہواروں میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوششوں کو عوام ناکام بنادیں گے۔ پارٹی نے کہاکہ گنیش اُتسو، دہی ہانڈی اور نوراتری فیسٹیول ہندوؤں کے عقائد کا ایک حصہ ہیں۔ عدالت چونکہ حکم چلانے کے عادی ہوگئی ہیں، کم از کم مذہبی معاملات میں لکشمن ریکھا (حدود) سے آگے نہ بڑھیں۔ عوام نے جمہوری طریقہ سے حکومت کا انتخاب کیا ہے اور یہ کام حکومت کو کرنے دیا جائے اور حکومت کے اعلیٰ ادارہ جانتے ہیں کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے۔ اگر حکومت کے سربراہ کو نظرانداز اور جمہوریت کے قتل کی کوشش کی گئی تو قومی نظام کی جڑیں مفلوج ہوجائیں گی۔ شیوسینا کے ترجمان ’سامنا‘ کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ ہندوؤں کے عید و تہوار میں کسی بھی گوشہ سے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام اُسے ناکام بنادیں گے۔ شیوسینا اظہار ناراضگی کی قیادت کرے گی۔ جب عدالتیں حکومت کا رول ادا کرنے لگے تو انھیں رسوائی کا سامنا کرنے بھی تیار رہنا ہوگا۔ کیوں کہ اب عدالتیں تمام فیصلے کرنے لگی ہیں۔ جس کی توقعات حکومت سے وابستہ کی جاتی ہیں۔ شیوسینا نے کہاکہ تہواروں کے خلاف عدالتوں کے فرمانوں سے عوام میں غم و غصہ پیدا ہوگیا ہے۔ عدلیہ پر شیوسینا کا یہ ریمارک ایسے وقت آیا ہے جبکہ چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے کل دہی ہانڈی رابطہ کمیٹی ارکان کو یہ تیقن دیا ہے کہ سپریم کورٹ میں مذکورہ مقدمہ کی آئندہ سماعت کے موقع پر مہاراشٹرا کے ایڈوکیٹ جنرل ریاست کی نمائندگی کریں گے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں یہ حکم جاری کیا تھا کہ دہی ہانڈی کی بلندی 20 فٹ سے زائد نہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT