Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / مذہبی معاملات میں حکومت کو من مانی کا اختیار نہیں: ڈگ وجئے سنگھ

مذہبی معاملات میں حکومت کو من مانی کا اختیار نہیں: ڈگ وجئے سنگھ

ناانصافیوں کا جائزہ لینے صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا سراسر شرارت، خفیہ ایجنڈہ پر عمل کیلئے بی جے پی کے ہتھکنڈے

حیدرآباد۔/19اکٹوبر، ( سیاست نیوز) جنرل سکریٹری آل انڈیا کانگریس کمیٹی و انچارج تلنگانہ کانگریس اُمور ڈگ وجئے سنگھ نے شریعت میں مداخلت کرتے ہوئے مسلمانوں کے مذہبی معاملات سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام بی جے پی پر عائد کیا۔ مذہبی معاملات کو سیاست سے جوڑتے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوریاں بڑھانے کا دعویٰ کیا۔ آج چارمینار کے دامن میں راجیو گاندھی سدبھاؤنا یادگار کمیٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کی حکومت تشکیل پانے کے بعد ہندوتوا طاقتیں ایک منظم سازش کے تحت اپنے خفیہ ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے جس میں یکساں سیول کوڈ بھی شامل ہے۔ ملک مختلف مسائل سے دوچار ہے۔

ملک کی ترقی غریب عوام کی فلاح و بہبود اور انتخابی منشور سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے وزیر اعظم یکساں سیول کوڈ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے ملک کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں جب بھی ایسے کوئی مسائل سر ابھارتے تھے کانگریس پارٹی مذہبی رہنماؤں سے اجلاس طلب کرتے ہوئے ان سے مشاورت کرتی اور انہی کی رائے پر عمل کرتی تھی جس کے خوشگوار نتائج برآمد ہوتے تھے۔ لیکن بی جے پی مذہبی معاملات کو سیاست سے جوڑتے ہوئے اس کا سیاسی فائدہ اٹھاررہی ہے اور مسائل کو متنازعہ کے ساتھ ساتھ پیچیدہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ اگر کہیں کوئی مسئلہ ہے تو حکومت مذہبی رہنماؤں سے بات کریں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین سے تبادلہ خیال کریں۔ حکومت کو مذہبی معاملہ میں من مانی فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی دستور ہند نے اس کی اجازت دی ہے۔ اگر ناانصافیوں کا جائزہ لینا ہے تو تمام مذاہب کے ناانصافیوں کا جائزہ لیں صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا سراسر شرارت ہے۔ جس کو کانگریس پارٹی ہرگز قبول نہیں کرے گی اور نہ ہی وزیر اعظم کو مذہبی معاملات میں یکطرفہ فیصلے کرنے کی اجازت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قانون میں یکسانیت نہیں ہے یہاں تک کہ کریمنل قانون میں بھی یکسانیت نہیں ہے تو پھرصرف مسلمانوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہندوتوا اور سنگھ پریوار کی طاقتیں ایک منظم سازش کے تحت اقلیتوں کے خلاف تحریک چلارہے ہیں۔ پہلے گھر واپسی، لوجہاد، رام زادہ حرام زادہ، گاؤکشی مہم کے ذریعہ ملک کے ہندو مسلم اتحاد میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ مسلمانوں کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کیا گیا۔

اب یکساں سیول کوڈ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں  کی شریعت میں مداخلت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو خطرناک رجحان ہے۔ بی جے پی فرقہ پرستی کا زہر اُگلتے ہوئے ملک میں ہندو مسلم گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہنچارہی ہے جس سے سیکولرازم کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ بی جے پی کے نظریات اور اس کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں کو ملک کا غدار قرار دیا جارہا ہے۔ بی جے پی نے سیکولرازم کے معنی و مفہوم دونوں تبدیل کردیئے ہیں، ہندوستان کی تقسیم  میں اہم رول ادا کرنے والے محمد علی جوہر کو سیکولر اور ہندو مسلم اتحاد کیلئے جان کی قربانی دینے والے گاندھی جی کو غدار قرار دیا جارہاہے ملک اور سیکولرازم کیلئے جان دینے والے گاندھی جی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی قربانیوں کو فراموش کیا جارہا ہے۔ کانگریس پر پڑوسی ملک اور دہشت گردی پر نرم رویہ رکھنے کا بی جے پی الزام عائد کررہی ہے جبکہ بی جے پی نے ہی ہندوستانی جیل سے پاکستانی دہشت گرد کو رہا کردیا تھا۔ سرجیکل اسٹرائیک فوجیوں کا کارنامہ ہے تاہم بی جے پی ناخن کٹواکر اپنا شمار شہیدوں میں کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ مرکزی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے سنگھ پریوار کی سوچ اور فکر سے متاثر ہوکر پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستانی فوج کا اسرائیل کی فوج سے تقابل کیا ہے، وزیر اعظم اور وزیر دفاع دونوں نے اپنے ریمارکس سے فوج کی توہین کی ہے جس پر راہول گاندھی نے دوسروں کی شہادت پر روٹیاں سینکنے کا بی جے پی پر جو الزام عائد کیا ہے وہ حق بجانب ہے۔
کانگریس کے دور حکومت میں پڑوسی ممالک سے کئی جنگیں ہوئی ہیں تاہم ہندوستان اور کانگریس امن چاہتے ہیں کانگریس کبھی نہ ڈری ہے اور ڈرے گی۔ مگر ایسے معاملات کو کبھی سیاست سے نہیں جوڑا ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی مختلف جماعتوں کے قائدین کو ترغیب دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عدلیہ سے بھی توقع کے مطابق انصاف نہیں مل رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT