Wednesday , August 23 2017
Home / ہندوستان / مذہب اور ذات پات کی تفریق سے مبراء محبت کا جذبہ

مذہب اور ذات پات کی تفریق سے مبراء محبت کا جذبہ

مسلم نوجوان کے ساتھ ہندو لڑکی کی شادی کو ’’ لو جہاد ‘‘ قراردینے کی کوشش ناکام

منڈیہ( کرناٹک )۔/12اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک ہندو نواز تنظیم کے ارکان نے آج ایک ہندو خاندان کے اس فیصلہ کی شدید مخالفت کی ہے کہ ان کی لڑکی کی شادی ایک مسلم نوجوان سے کروائی جائے گی اور اسے ’ لو جہاد ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ احتجاجیوں نے لڑکی کے مکان کے باہر ’ لوجہاد ‘ کے نعرے بلند کئے اور یہ الزام عائد کیا کہ محبت اور شادی کے نام پر تبدیلی مذہب کروایا جارہا ہے۔ یہ جوڑا ایم بی اے گریجویٹ اور دونوں کے والدین بچپن کے دوست ہیں اور گزشتہ 12 سال سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت میں گرفتار ہیں۔دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی سے یہ جوڑا بہت جلد میسور میں شادی کرنے والا ہے۔ تاہم احتجاجیوں نے الزام عائد کیا کہ لو جہاد کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور یہ وضاحت طلب کی کہ لڑکی کو اسلامی طریقہ عبادت کی تربیت کیوں دی جارہی ہے  اگر یہ حقیقت میں لو میریج ( محبت کی شادی ) ہے ۔پولیس کی مداخلت کے بعد احتجاجی منتشر ہوگئے ۔ احتجاجیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے لڑکی نے بتایا کہ اگر میں ہندو لڑکے سے بھی شادی کرتی تواس کے خاندانی رسم و رواج پر عمل کرنا پڑتا چونکہ میں ایک مسلم لڑکے سے محبت کرتی ہوں اور میں اپنے والدین کی رضامندی سے خوشی خوشی یہ شادی کررہی ہوں۔ لڑکی کے والد ڈاکٹر نریندر بابو جو کہ ماہر اطفال ہیں بتایا کہ مجھے اپنی لڑکی کی خوشی اہمیت رکھتی ہے اور مذہبی بندش کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی مذہب یا ذات پات کو اہمیت نہیں دی  اور نہ ہی اس جھمیلے میں پڑنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں گزشتہ 12سال سے محبت کررہے ہیں ۔ ابتداء میں میں نے سمجھا کہ ایک مسلمان کو داماد بنانا مشکل ہوگا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ ( لڑکا ) میرے بچپن کے دوست کا بیٹا ہے جوکہ ایک شریف خاندان ہے۔ لڑکے کے والد مختار احمد نے کہا کہ مذہبی بنیادوں پر ہمارے خاندانوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور شادی کی تجویز کو خوشی خوشی منظور کرلی ۔انہوں نے بتایا کہ یہ لڑکا اور لڑکی غیر تعلیم یافتہ نہیں ہیں جبکہ ایم بی اے گریجویٹس ہیں حتیٰ کہ لڑکی بیرون ملک جاکر آئی ہے اور فطری محبت کو ’ لوجہاد ‘ کا نام نہیں دیا جاسکتاجبکہ طویل عرصہ تک محبت میں گرفتار ہونے کے بعد اب ازدواجی رشتہ میں منسلک ہونا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT