Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مذہب کی بنیاد پر 12 فیصد تحفظات کی سفارش قبول کرنا مشکل

مذہب کی بنیاد پر 12 فیصد تحفظات کی سفارش قبول کرنا مشکل

مسلمانو ںکو 12 فیصد تحفظات کا فیصلہ سراسر سیاسی ، عامر اللہ خاں کا بیان
حیدرآباد۔/18اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کیلئے سماجی، تعلیمی اور معاشی سروے کے سلسلہ میں قائم کردہ کمیشن آف انکوائری کے ایک رکن ڈاکٹر عامر اللہ خاں نے واضح کردیا کہ موجودہ حالات میں بی سی کمیشن یا عدالت کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر 12فیصد تحفظات کی سفارش کو قبول کرنا مشکل ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر اللہ خاں جو ڈیولپمنٹ اکنانومسٹ اور انڈین اسکول آف بزنس کے وزیٹنگ فیکلٹی ہیں‘ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے اعلان کو بالکلیہ طور پر سیاسی فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر سے ملاقات کے دوران انہوں نے 12فیصد تحفظات کی فراہمی کو قانونی شکل دیئے جانے میں حائل دشواریوں سے واقف کرایا تھا لیکن چیف منسٹر کے سی آر ٹاملناڈو کی طرز پر 12فیصد تحفظات کی فراہمی پر مصر دکھائی دیئے۔ عامر اللہ خاں نے کہا کہ ٹاملناڈو میں اگرچہ مجموعی تحفظات 69 فیصد ہیں اور اس کیلئے وہاں آزادی سے قبل کوششوں کا آغاز کیا گیا اور دستور کے نویں شیڈول میں ترمیم کی گئی۔ تلنگانہ حکومت  بھی اس طرح کی دستوری ترمیم کے ذریعہ تحفظات فراہم کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ حکومت اس میں کامیاب ہوجائے تو یہ یقینی طور پر ایک کارنامہ ہوگا۔ عامر اللہ خاں جو سچر کمیٹی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں تلنگانہ میں 12فیصد تحفظات کی فراہمی پر کھل کر اظہار خیال سے گریز کیا۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ سے قبل ہی حکومت کی جانب سے 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے اعلان پر انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن آف انکوائری کا کام تحفظات کا فیصد طئے کرنا نہیں ہے بلکہ ہم بی سی کمیشن کو مسلمانوں کی پسماندگی کی تفصیلات فراہم کردیں گے۔ تحفظات کے فیصد کا تعین بی سی کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ترقی کے فوائد میں مسلمانوں کی حصہ داری کافی کم ہے۔ شمالی ہند میں مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ تلنگانہ میں امن و ضبط کی صورتحال بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آلیر انکاؤنٹر اور بعض دیگر واقعات کو چھوڑ کر تلنگانہ میں امن و ضبط کی صورتحال اطمینان بخش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بھی مسلم سیاسی نمائندگی مجموعی طور پر کم ہے اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں مسلم نمائندگی انتہائی کم ہے۔کمیشن کے ایک اور رکن پروفیسر عبدالشعبان جو مہاراشٹرا میں مسلمانوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے قائم کردہ کمیشن کا حصہ رہ چکے ہیں افسوس کا اظہار کیا کہ کمیشن کی رپورٹ پر حکومت نے آج تک عمل آوری نہیں کی۔ انکوائری کمیشن کے ارکان نے آج دائرۃ المعارف کا دورہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT