Wednesday , May 24 2017
Home / مضامین / مذہب کے نام پر سیاست سے ملک کے دستور و جمہوریت کو خطرہ

مذہب کے نام پر سیاست سے ملک کے دستور و جمہوریت کو خطرہ

رام پنیانی

ملک میں فرقہ وارانہ سیاست اور مذہب کے نام پر سیاست سے ہندوستان کے دستور کی اقدار اور ملک کی جمہوریت کی اقدار کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ سیاست شناخت کے مسائل پر پنپتی ہے ۔ اس سے اقلیتوں کے تعلق سے جذباتی ہوا کھڑا کیا جاتا ہے ۔ ایسی صورت میں سماج کے اہم ترین مسائل اور بقا سے متعلق مسائل کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ ہندوستان میں رام مندر تحریک کے فروغ سے اقلیتوں کے خلاف نفرت اور فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا تھا ۔ فرقہ وارانہ سیاست حالانکہ مذہب کے نام پر کی جاتی ہے لیکن اس کا مذہب اور اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا آزاد اور گاندھی جی جیسے قائدین بہت زیادہ مذہبی تھے لیکن ساتھ ہی وہ فرقہ وارانہ سیاست سے بہت دور تھے ۔ دوسری جانب ساورکر اور جناح جیسے افراد بھی تھے جو شائلد ہی اپنی نجی زندگی میں مذہب پر عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے مذہبی قوم پرستی کی سیاست کی قیادت کی ہے ۔ یہ قوم پرستی در اصل سماج کے متاثر ہوتے ہوئے طبقات سے آگے بڑھی ہے ۔ اس میں زمیندار ‘ امرا اور بعد میں بڑے گھرانوں کا ایک طبقہ بھی شامل ہوگیا ۔ اس میں اعلی ذات کے تعلیم یافتہ افراد بھی حصہ دار بن گئے ۔ یہ ایسے قوم پرست ہیں جن کا ملک کی جدوجہد آزادی سے کوئی تعلق ہی نہیں رہا تھا ۔ صنعت کاروں کے بڑ؍تے ہوئے طبقات ‘ تعلیم یافتہ طبقات اور ورکرس کی سیاست ہندوستانی قوم پرستی پر مبنی رہی تھی اور اس کا اظہار بھگت سنگھ ‘ ڈاکٹر امبیڈکر اور گاندھی جی کی تنظیموں میں ہوا ہے ۔ گذشتہ تین دہوں میں مذہب کے نام پر جو سیاست کی جا رہی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خود غلط راستے پر ہے اور اس سے ہندوستانی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے ۔ اس طرح کی فرقہ پرستی کے فروغ اور عروج کی وجہ سے فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد در اصل دستوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے ۔

سچ کہا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ ہندووں اور مسلمانوں یا ہندووں اور عیسائیوں کے مابین نہیں ہے ۔ یہ در اصل جمہوریت اور مذہب پر مبنی قوم کے نظریہ کے مابین ہے ۔ پاکستان کا قیام مذہب کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا اور یہ ملک پاکستان اور بنگلہ دیش میں تقسیم ہوگیا ۔ کسی بھی مملکت کیلئے مذہب کو بنیاد نہیں بنایا جاسکتا ۔ مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاست میں جمہوری اصولوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اسی سے سماج کے غریب اور کمزور طبقات متاثر ہوجاتے ہیں۔ ہمارے دستور میں ‘ جس کی تدوین ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے کی ہے ‘ آزادی ‘ مساوات اور دیگر حقوق پر زور دیا گیا ہے ۔ ایسے ممالک جہاں مذہب یا نسل پر مبنی سیاست کی جاتی ہے وہ عموما ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس کی مثال پاکستان اور جرمنی سے لی جاسکتی ہے ۔ فرقہ پرست تنظیموں کی جو کوششیں ہیں وہ جمہوری اقدار اور ملک کی آزادی کیلئے خطرہ ہیں۔ ہمیں یہ یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ملک میں بھکتی اور صوفی ازم کی روایات رہی ہیں۔ عیسائیوں کا بھی رول رہا ہے ۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم دلتوں کے حقوق دیں جس پر ڈاکٹر امبیڈکر نے زور دیا تھا اور مہاتما جیوتی با پھولے نے جدوجہد کی تھی ۔ ہمیں خواتین کو حقوق دینے کی ضرورت ہے جس پر ساوتری بائی پھولے نے زور دیاتھا ۔ معاشی انصاف کی ضرورت ہے جیسا بھگت سنگھ چاہتے تھے ۔ ہمیں سچائی اور عدم تشدد کا راستہ اختیار کرنا چاہئے جیسا گاندھی جی چاہتے تھے ۔ ہمیں اپنی کثرت پر خوش ہونے اور سماج کے پسماندہ طبقات کو با اختیار بنانے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسا کرتے ہوئے ہم امن اور ہم آہنگی کی سمت پیشرفت کرسکتے ہیں۔ ہمارے دستور کا اصل ہے کہ ہر ہندوستانی کی آزادی ‘ مساوات اور اس کے حقوق کو ہی سماجی اور سیاسی زندگی کی بنیاد  بنایا جانا چاہئے ۔ ہم کو شناخت کی سیاست کو ترک کرنے کی ضرورت ہے ۔ مذہب کے نام پر سیاست سے گریز کرنا چاہئے ۔ وہ راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو ملک کی جدوجہد آزادی میں اختیار کیا گیا تھا۔

ہندوستانی قوم پرستی ‘ سکیولرازم اور ہندوستانی جمہوریت کا نظریہ ایسا ہے جو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہوسکتا ۔ گذشتہ چند دہوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سکیولرازم کو مختلف پہلووں سے چیلنج کیا جا رہا ہے ۔ شناخت پر مبنی مسائل ‘ جذباتی مسائل کو ہمارے قومی راستہ میںمرکزی مقام ملنے لگا ہے ۔ اظہار خیال کی آزادی بھی مسلسل خطرہ میں آگئی ہے حالانکہ یہ ہندوستانی قوم پرستی کا اہم ستون ہے ۔ سماج کے کمزور طبقات کو اور بھی زیادہ نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ ان سے امتیاز پہلے سے زیادہ ہوگیا ہے ۔ مذہبی اقلیتیں اپنے آپ کو مزید غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔ فرقہ واریت کو عروج حاصل ہو رہا ہے ۔ ہمیں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ دو طرح کی متوازی قوم پرستی کس طرح چل سکتی ہے ۔ ایک قوم پرستی تو ہندوستانی قوم پرستی ہے لیکن جو دوسری ہے وہ فرقہ وارانہ قوم پرستی ہے ۔ ان کی سماجی بنیادیں کیا ہیں اور ان کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دونوں میں سماجی ایجنڈہ ہی بنیادی فرق ہوتا ہے ۔ ہمیں کوشش یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم جدوجہد آزادی کے دور کی اقدار کو واپس لائیں۔ ہندوستانی دستور میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان پر عمل آوری کی جائے تاکہ ہم سماج کا اصل راستہ طئے کرسکیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT