Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / مردہ گائے کی کھال نہ اتارنے دلتوں کا عہد

مردہ گائے کی کھال نہ اتارنے دلتوں کا عہد

گجرات میں مسلم دلت اتحاد کا مظاہرہ ، ریالی سے واپس ہونے والوں پر حملہ
اونا (گجرات) ۔ 15 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) دلتوں کی کثیر تعداد نے متحدہ طور پر گائے کی کھال نہ اتارنے کا عہد کیا اور حکومت گجرات کی جانب سے اندرون ایک ماہ فی خاندان پانچ ایکر اراضی منظور نہ کرنے کی صورت میں ریل روکو احتجاج شروع کرنے کی دھمکی دی۔ دوسری طرف دلتوں پر حملے کے واقعہ سے کشیدگی پیدا ہوگئی ہے جس میں 8 افراد زحمی ہوگئے۔ احمد آباد سے شروع کیا گیا 10 روزہ 350 کیلو میٹر طویل پیدل مارچ آج یہاں ریالی کی شکل میں اختتام کو پہنچا۔ مسلم طبقہ کی کثیر تعداد نے بھی اس مہم میں شامل ہوتے ہوئے دلتوں کی تائید کی ہے۔ اس موقع پر ’’دلت مسلم بھائی بھائی‘‘ کے نعرے لگائے گئے اور وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ حیدرآباد میں خودکشی کرنے والے دلت طالب علم روہت ویمولا کی ماں رادھیکا ویمولا اور اونا میں دلت مظالم کے شکار ایک شخص کے والد بالو سرویا نے مل کر جے این یو اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار کی موجودگی میں یہاں رسم پرچم کشائی انجام دی۔ اونا میں 11 جولائی کو نام نہاد گاؤ رکھشکوں نے مردہ گائے کی کھال اتارنے پر دلت طبقہ کے 7 ارکان کو بری طرح زد و کوب کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔ دلت قائدین نے ’’جئے بھیم‘‘ کے نعروں کے درمیان مظالم اور امتیازی سلوک سے آزادی کا مطالبہ کیا۔ کنہیا کمار نے کہا کہ گجرات کی ترقی کے ماڈل کا جو ڈھنڈورا پیٹا جارہا تھا، دلتوں نے اسے پنکچر کردیا۔ رادھیکا ویمولا نے کہا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا، اس نے محض اس لئے خودکشی کی کیونکہ وہ دلت تھا۔ اونا کے قریب سامتر گاؤں میں اعلیٰ طبقہ کے ارکان نے پھر ایک بار دلتوں کو حملہ کانشانہ بنایا جس میں تقریباً 8 دلت نوجوان زخمی ہوگئے۔ یہ اونا ٹاؤن میں احتجاجی ریالی میں شرکت کے بعد واپس ہورہے تھے، پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شل چھوڑے اور ہلکا لاٹھی چارج بھی کیا ۔ تاہم متاثرین نے کہا کہ پولیس نے ان کی کوئی مدد نہیں کی ہے۔ انہوںنے دعویٰ کیا کہ حملہ آور سامتر دیہات کے ہی ہیں جو گزشتہ ماہ اونا دلت حملے کے سلسلہ میں 12 افراد کی گرفتاری پر انتقام لینا چاہتے تھے۔ تقریباً 20 افراد جن کا تعلق ضلع بھاؤ نگر سے ہے، موٹر سیکلوں پر اونا گئے ہوئے تھے، یہاں انہوں نے دلتوں کی احتجاجی ریالی میں حصہ لیا اور واپسی کے دوران ہجوم نے انہیں روک لیا اور حملہ کا نشانہ بنایا۔ ایک دلت نے اس حملہ میں بچ گیا ، بتایا کہ یہ ایک منصوبہ بند کارروائی تھی جہاں حملہ آوروں نے متبادل راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کردی تھی۔ انہوں نے گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا۔

TOPPOPULARRECENT