Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / مرد بزرگ کے مزار کے قریب خواتین کا داخلہ بدترین گناہ

مرد بزرگ کے مزار کے قریب خواتین کا داخلہ بدترین گناہ

بمبئی ہائی کورٹ کو درگاہ حاجی علی ٹرسٹ کا جواب، خواتین کے مفاد میں فیصلہ کا ادعا
ممبئی۔19اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی کی مشہور و معروف درگاہ حضرت حاجی علی کے ٹرسٹیز نے بمبئی ہائی کورٹ سے آج کہا کہ ’’دین اسلام میں کسی مرد مسلم بزرگ کے مزار کے قریب خواتین کا داخلہ ایک بدترین گنا ہے۔‘‘ ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت کے دوران قبل ازیں درگاہ کے ٹرسٹیز سے کہا تھا کہ وہ درگاہ کے اندرونی علاقہ میں خواتین کے داخلہ پر امتناع سے متعلق اپنے قواعد پر نظرثانی کریں۔ 15 ویں صدی کے صوفی بزرگ حاجی علی کی درگاہ کے انتظامات کے نگران ٹرسٹ نے جسٹس وی ایم کناڈے کے زیر قیادت بنچ کو آج ایک مکتوب روانہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے احکام کی روشنی میں ٹرسٹ کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا اور پھر ایک مرتبہ یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ درگاہ کے اندرونی حصہ میں خواتین کے داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ’’دین اسلام میں کہ مرد بزرگ کے مزار کے انتہائی قریب مقام پر خواتین کا داخلہ ایک بدترین گناہ ہے۔ نیز یہ ٹرسٹ ملک کے قانون و دستور کے مطابق چلایا جاتا ہے اور دستور کی دفعہ 26 کے تحت ٹرسٹ کو اپنے مذہبی امور کا انتظام چلانے کا مکمل حق حاصل ہے چنانچہ کسی تیسرے ادارہ کی جانب سے اس قسم کی کوئی بھی مداخلت نامناسب ہے۔‘‘ مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’خواتین کیلئے موجودہ انتظامات سے انہیں محفوظ مقام حاصل ہے۔ خواتین کے تحفظ و سلامتی کے مفادات میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور خود خاتون زائرین بھی اس کا خیرمقدم کرتی ہیں۔‘‘ ٹرسٹ کا مکتوب ریکارڈ میں شامل کرلیا گیا ہے اور مقدمہ کی آئندہ سماعت 17 نومبر کو مقرر ہے۔ قبل ازیں بمبئی ہائی کورٹ نے درگاہ کے قریبی مقام پر خواتین کے داخلہ کو چیلنج کرتے ہوئے پیش کردہ درخواست سماعت کے دوران کہا تھا کہ ’’انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ خوشگوار انداز میں اس مسئلہ کو حل کرے اور تمام فریقین کے موقف کی سماعت کے بعد عدالت ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT