Sunday , August 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / مرد حق حضرت محمد عبد الحق رحمۃ اللہ علیہ

مرد حق حضرت محمد عبد الحق رحمۃ اللہ علیہ

مولانا محمدتسلیم القادری، مدرس مدرسۂ کاؤرم پیٹہ
زندگی بنتی نہیں، بنائی جاتی ہے۔ عزت نہ دستار سے ملتی ہے، نہ گفتار سے، بلکہ عزت کردار سے ملتی ہے۔ وجود انسانی کوئی کنکر، پتھر نہیں کہ یوں ہی آیا اور چلاگیا، اس کا ایک خاص مقصد ہے۔ بندگی اور نمائندگی، اگر کسی کے اندر یہ دونوں باتیں نہیں تو افسانی معاشرہ میں رہنے کا حقدار نہیںہے۔ بندگی نہیں تو بندہ کیسا۔ اور انسانی دکھ درد میں شرکت نہیں تو نمائندہ کیا۔
دہقانی صلاحیتوں کی بھیڑ میں مردِ حق حضرت مولوی محمد عبدالحق علیہ الرحمہ ایک ایسا نمایاں نام ہے ، جو قابل رشک بندہ بھی ہے اور قوم کا بہترین نمائندہ بھی۔ یہ مردِ حق محض بندۂ عام نہیں، بلکہ ظلمتوں میں طلوع ہونے والے اجالے کا نام ہے۔ عشق رسولؐ کے پیکر کا نام ہے۔
جہاں میں ہیں جلوے عیاں کیسے کیسے
ہیں اسرار دل میں نہاں کیسے کیسے
الہی یہ دل ہے کہ مہماں سرا ہے
چلے آتے ہیں کارواں کیسے کیسے
صبح زندگی:  گل و لالہ چمن میں ہی نہیں کھلتا۔ کبھی کبھی صحراء ، بیابان، کھیت کھلیان میں بھی یہ اپنی بہار دکھلاتا ہے۔ایسے گل و لالہ کی تمکنت ہی عجیب ہوتی ہے۔ حضرت مولوی محمد عبدالحق علیہ الرحمہ وہی گل و لالہ ہیں، جو کسی تہذیبی شہر، علمی گھرانہ میں پیدا نہیں ہوئے، بلکہ ۱۸۹۱ء؁ میں ایک چھوٹا سا قریہ کاؤرم پیٹہ میں تولد ہوئے۔آپ کسی روایتی مدرسہ کے فارغ التحصیل نہ تھے، لیکن ان خوش نصیبوں میں تھے جو مادرزاد عبقری ہوتے ہیں۔ سرکاری مدرسہ کی جماعت چہارم کامیاب کرنے کے بعد تعلیم ترک کرکے بارہ (۱۲) سال کی عمر میں والد کے ہمراہ تجارت میںشریک ہوگئے۔ لیکن تعلیم و تربیت کو روز کے لازمی معمولات میں شامل رکھے۔آپ ظاہری تعلیم و ترقی کے ساتھ حقیقی و باطنی ترقی کے جویاں تھے۔ پیرطریقت محترم مولانا حافظ و قاری عبدالہادی ملباری رحمہ اللہ کے دست حق پرست پر ۱۳۴۵؁ھ میں بیعت سے مشرف ہوئے۔ نماز باجماعت کا خاص اہتمام فرماتے۔ بعد فجر وظیفہ اورمراقبہ، پھر تعلیم کے بعد نماز اشراق ادا کرکے گھر تشریف لے جاتے۔ بستی میں آئے کسی مسافر کے کھانے کا انتظام اپنے گھر میں فرماتے۔ نیز عشق و مستی کا سفر بھی آپ کے نصیب کا حصہ رہا، یعنی مع اپنی اہلیہ بحری جہاز کے ذریعہ حج و زیارت کی سعادت بھی حاصل کئے۔
یادگار زندگی:  آپ کی یادگاروں میں جیتی جاگتی تصویر دارالعلوم عربیہ کاؤرم پیٹہ ہے، جہاں کے فیض یافتہ نورحق کے روشن چراغ ملک و بیرون ملک ضوفشانی میں منہمک نظر آتے ہیں۔
شامِ زندگی: صبح ہوتی ہے، تو صبح ہی نہیں رہتی۔ صبح کے تعاقب میں شام،دن کے تعاقب میں رات لگتی رہتی ہے۔ حضرت مولوی محمدعبدالحق علیہ الرحمہ کی صبح کاؤرم پیٹہ میں ہوئی تھی۔ اور شام بھی اسی مقام پر ہوتی۔ جب پیدا ہوئے تھے تو وہ ۱۸۹۱ء؁ تھا۔ جب وفات پائے تو ۱۸؍ڈسمبر۱۹۴۸ء؁ تھا۔ کُل اٹھاون برس کی زندگی پائی۔ زندگی کی اٹھاون بہاریں دیکھیں۔اب وہ دارالعلوم عربیہ کے پہلو میں اپنی قبر میں آسودۂ خواب ہیں۔قاری عبدالکریم صاحب تسکینؔ نماز جنازہ پڑھائے۔ اور مدرسہ کی مشرقی سمت میں آپ کا مزار ہے۔ ہرسال ۱۶؍صفرالمظفر کو سالانہ فاتحہ کا اہتمام رہتا ہے۔
آج پھولے نہ سمائیں گے کفن میں آسیؔ
ہے شب گوری کی اس گل کی ملاقات کی رات

TOPPOPULARRECENT