Wednesday , July 26 2017
Home / مذہبی صفحہ / مرسل : ابوزہیر نظامی ماہِ رمضان المبارک اور روزہ

مرسل : ابوزہیر نظامی ماہِ رمضان المبارک اور روزہ

اﷲتعالیٰ کا بے حد احسان ہے کہ اُس نے ہرسال کی طرح امسال بھی ماہ رمضان المبارک کی تیاری و استقبال کرنے، اہمیت باقی رکھنے اور عبادت و ریاضت کی توفیق عطا فرمایا ہے۔ چنانچہ اسی ضمن میں روزہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس کے متعلق کچھ تحریر پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ ملاحظہ ہو:
روزہ، سفر کی حالت میں رخصت و اجازت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ سفر کی کیا نوعیت ہو؟ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ حضرت نعمان بن ثابت المعروف امام اعظم علیہ الرحمۃ والرضوان کے نزدیک کم سے کم مدت تین دن تین رات ہے۔امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک سفر کی کم سے کم مقدار ایک دن ایک رات ہے۔ ان اختلافات کے قطع نظر حالت سفر میں افطار جائز ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مسافر کے لئے افطار کو مباح فرمایا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ حالت سفر میں روزہ رکھنے سے افطار ہی افضل ہے۔ ایک روایت میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ حالت سفر میں روزہ رکھنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو حالت حضر میں روزہ نہ رکھے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں روزہ رکھ کر مکہ کی طرف چلے پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام تک پہنچ کر پانی منگوایا اور اوپر اٹھا کر نوش فرمایا تاکہ سب دیکھ لیں اس کے باوجود بعض لوگوں نے روزہ افطار نہیں کیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’وہ گنہگار ہیں‘‘۔
(ترمذی)
سفرکی حالت میں صوم و افطار دونوں کے جائز ہونے پر سب کا اتفاق ہے، البتہ اختلاف صرف رخصت و عزیمت کے بارے میں ہے۔ صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین میں حضرت عثمان بن العاص و انس بن مالک رضی اللہ عنہما حالت سفر میں روزے کی افضلیت کے قائل ہیں، فقہائے امت میں امام اعظم ابوحنیفہ اور صاحبین، امام مالک اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کا بھی یہی مسلک ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت جن میں ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں اور فقہاء میں امام اوزاعی اور امام اسحاق رحمۃ اللہ وغیرہ ہیں، حالت سفر میں افطار کو افضل قرار دیتی ہے، خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بیمار کی طرح مسافر کو بھی رخصت و اجازت حاصل ہے، مسافر کو چاہئے کہ اگر سفر میں دقت اور تکلیف نہ ہو اور آسانی کے ساتھ روزہ رکھ سکتا ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے ، بصورت دیگر رخصت و اجازت پر عمل کرے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT