Thursday , May 25 2017
Home / مضامین / مرض جس کا علاج ڈاکٹر کو نہیں مانباپ کو کرنا ہے

مرض جس کا علاج ڈاکٹر کو نہیں مانباپ کو کرنا ہے

محمد مصطفیٰ علی سروری
جوتسنا فاینجا دہلی کے آتما رام کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، یوں تو ملک بھر میں ہزاروں لوگ کالجس اور یونیورسٹیوں میں اسسٹنٹ، اسوسی ایٹ اور پروفیسر کے عہدوں پر فائز ہیں، اور بحیثیت استاد مختلف مضامین کی تدریس کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں لیکن آندھراپردیش کے ضلع کرشنا سے تعلق رکھنے والی اس خاتون جوتسنا فاینجا کی خاص بات یہ ہے کہ اپنی دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونے کے باوجود یہ خاتون نہ صرف پڑھ لکھ کر پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ ترین یونیورسٹی کی سند حاصل کرتی ہے بلکہ دہلی جیسے شہر میں دہلی یونیورسٹی سے ملحقہ کالج میں بطور انگلش کی اسسٹنٹ پروفیسر کارگزار ہے۔
6 فروری 2017 ء کو اخبار انڈین اکسپریس نے صائمہ آفرین کی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق آندھراپردیش کے ضلع کرشنا کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والی اس نابینا خاتون نے پانچویں جماعت تک تلگو میڈیم سے تعلیم حاصل کی اور انگریزی سے اس خاتون کا سابقہ پانچویں کے بعد پڑا۔ بینائی سے محروم ہونے کے باوجود جوتسنا فاینجا نہ صرف پڑھانے کا کام کرتی ہے بلکہ وہ انگریزی اور تلگو زبان میں لکھتی بھی رہتی ہے۔ ابھی حال میں حیدرآباد پبلک اسکول میں منعقدہ حیدرآباد لٹریری فورم میں جوتسنا کی شاعری کی کتاب “Ceramic Evening” کی رسم اجراء عمل میں آئی۔
اخبار انڈین اکسپریس میں جوتسنا کے انٹرویو پر مبنی رپورٹ میں ایک نہایت اہم بات سامنے آئی ہے جس کے مطابق اس نابینا لڑکی کی تعلیم و ترقی میں اُس کی ماں کا بہت بڑا رول ہے۔ وہ کہتی ہے ادب میں میری دلچسپی اس لئے بھی پیدا ہوئی کہ میری ماں مجھے تلگو  ناولس پڑھ کر سنایا کرتی تھی چونکہ میں خود نہیں پڑھ سکتی تھی۔ اس طرح ادب سے میری دلچسپی کا سفر شروع ہوا۔ پھر اسکول کے ٹیچرس اور یونیورسٹی کے اساتذہ سبھی نے میری مدد کی۔ یوں جوتسنا فاینجا نے صرف 25 سال کی عمر میں انگلش فارن لینگویج یونیورسٹی (EFLU) تارناکہ سے انگلش لٹریچر میں (Ph.D) کی ڈگری حاصل کی اور فی الحال دہلی یونیورسٹی سے ملحقہ کالج آتما رام کالج میں انگلش پڑھارہی ہے۔
جوتسنا فاینجا کے کرشنا ڈسٹرکٹ کے تلگو میڈیم کے اسکول سے لے کر دہلی کے کالج تک کے سفر میں ماں کی تربیت کا بہت بڑا رول رہا ہے جس کا وہ خود اعتراف کرتی ہیں۔ بینائی سے محروم اس لڑکی نے گاؤں سے لے کر دہلی تک کے سفر میں جس خود اعتمادی، جہد، لگن ا ور محنت کا مظاہرہ کیا ہے وہ آنکھ رکھنے والے ہزاروں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ تو ایک جوتسنا فاینجا کی مثال تھی۔ اسی ماہ جنوری کے دوران اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اپنی جرائم کی خبروں میں کچھ ایسی خبریں شائع کیں جس سے قارئین کو احساس ہوتا ہے کہ اگر ہر ماں اپنے بچوں کی تربیت کے لئے کرشنا ضلع کی جوتسنا فاینجا کی ماں کی طرح چستی پھرتی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی تو صورتحال اس قدر سنگین اور خراب نہیں ہوتی۔
چادرگھاٹ پولیس کے حوالہ سے TOI نے 4 فروری کو ایک خبر شائع کی جس کے مطابق ایک 13 سالہ لڑکی کے والدین ایک ناریل فروخت کرنے والے کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرواتے ہیں۔ ان کی شکایت ہے کہ عثمانیہ مسجد کے قریب ناریل بیچنے والا ایک شخص ہے جس نے اُن کی لڑکی کے ساتھ مذموم حرکت کی۔ اخباری رپورٹ میں لکھا ہے کہ لڑکی کے والدین اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے پڑوس میں رہنے والا شخص جو ناریل بیچتا ہے اُن کی لڑکی کو خراب کررہا ہے۔ ایک دن جب اُن کی لڑکی نے پیٹ میں تکلیف کی شکایت کی تب وہ اپنی لڑکی کو ڈاکٹر سے رجوع کئے اور ڈاکٹر نے انھیں بتایا کہ ان کی لڑکی تو حاملہ ہے۔ لڑکی کے والدین تب بھی پولیس سے رجوع نہیں ہوئے بلکہ اس ناریل والے سے کہتے ہیں کہ وہ اُن کی لڑکی سے شادی کرلے۔ لڑکی کے والدین کے اس مطالبہ کو ناریل بیچنے والے نوجوان نے یکسر مسترد کردیا۔ تب کہیں جاکر لڑکی کے والدین نے پولیس میں شکایت درج کروائی کہ اُن کے پڑوس میں رہنے والا نوجوان اُن کی لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد شادی کرنے سے انکار کررہا ہے۔ اخباری اطلاع کے مطابق پولیس نے اس شکایت پر ایک مقدمہ درج کرلیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

یہ ایک اکیلا واقعہ نہیں جب ماں اپنی ہی لڑکی کے متعلق اُس وقت تک بے خبر رہی جب تک ڈاکٹر نے خود نہیں بتایا کہ لڑکی ماں بننے والی ہے۔ اخبار دکن کرانیکل نے 15 اکٹوبر 2016 ء کو ایک خبر شائع کی۔ خبر کے مطابق کالاپتھر کی رہنے والی ایک 16 سالہ لڑکی جو نویں جماعت کی طالبہ ہے کی اُس کے ہی دوست نے عصمت ریزی کردی ہے۔ پولیس کالا پتھر کے حوالے سے اخباری رپورٹ میں لکھا ہے کہ لڑکی کے دوست نے اس کو تقریباً ایک ماہ قبل ایک فون گفٹ کے طور پر دیا تھا اور اُس فون کے ذریعہ سے لڑکی اپنے دوست کے ساتھ گھنٹوں روزانہ بات کرتی تھی۔ پھر ایک دن لڑکی کا دوست اُس کو اپنے ساتھ ایک لاج لے کر جاتا ہے جہاں سے گھر واپسی کے بعد لڑکی اپنے پیٹ میں درد کی شکایت کرتی ہے۔ والدین تب اپنی لڑکی کو لے کر ڈاکٹر سے رجوع ہوتے ہیں اور ڈاکٹر کے ذریعہ لڑکی کے والدین کو پتہ چلتا ہے کہ لڑکی کی عصمت ریزی کی گئی ہے۔
اخبارات میں شائع ہونے والی جن دو خبروں کا یہاں ذکر کیا گیا اُن میں سبھی کردار کسی اور کے نہیں ہے بلکہ مسلمان کے ہی ہیں۔ ایک طرف تو جوتسنا فاینجا جیسی نابینا بیٹیاں ہیں جن کی ماؤں کی تربیت کا یہ عالم ہے کہ اپنی محرومیوں اور کمیوں کے باوجود وہ عام لڑکیوں کے مقابل بہترین تعلیم بھی حاصل کرسکتی ہے۔ گاؤں کے تلگو میڈیم کے پس منظر میں پڑھائی کے باوجود جوتسنا انگریزی میں مہارت حاصل کرتی ہے اور آنکھ رکھنے والوں کے ساتھ مقابلے میں حصہ لیتے ہوئے دہلی کے کالج میں انگریزی کے پروفیسر کا عہدہ حاصل کرتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر ماں چاہتی ہے تو نابینا لڑکیاں آنکھ رکھنے والوں کو بھی مات دے کر ہر طرح کی ترقی حاصل کرسکتی ہیں اور جب جب ماں اپنے بچوں کی تربیت سے غفلت برتتی ہے تو اُس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ ماں اپنی لڑکی کے پیٹ درد کا علاج کروانے ڈاکٹر کے ہاں جاتی ہے اور ڈاکٹر اُنھیں اطلاع دیتا ہے کہ یہ وہ مرض ہے جس کا علاج ڈاکٹر نہیں ماں باپ کو ہی کرنا ہے۔ اگر جوتسنا فاینجا کی ماں کا کسی مسلمان لڑکی کی ماں سے تقابل کرنا غلط ہے تو مجھے کوئی صحیح کیا ہے وہ بھی تو بتلادے۔ ہاں یہ سچ ہے ہم مسلمان ہیں اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں اور ہم اپنے آپ کو ہدایت یافتہ مانتے ہیں اور اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے کاموں کی کامیابی اللہ رب العزت کے ہاتھ ہے جو مالکِ کُل اور روز حساب کا بھی مالک ہے۔ لیکن ہماری عملی زندگیوں سے ہم کس طرح کے اسلام کی اور ماں باپ کے رول کی تصویر پیش کررہے ہیں۔ ماں ہونے کی ذمہ داری تو جوتسنا کی ماں نے بھی نبھائی۔ ماں ہونے کے ناطے اُس کی ماں نے اُس کو کبھی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ بینائی سے محروم اور معذور ہے۔ ماں ہونے کے ناطے اُس کی ماں نے اُس کو انگریزی تعلیم سے بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹایا۔ ماں ہونے کے ناطے جوتسنا کی ماں نے اپنی لڑکی کو صرف اسکول کالج ہی نہیں بھیجا بلکہ گھر میں خود کتابیں پڑھ کر اپنی بیٹی کو سناتی رہتی تاکہ وہ کتابوں کے سبق کو سن کر یاد کرتی رہے۔

کیا جوتسنا صرف پڑھ لکھ کر ایک پروفیسر بن کر خوش ہے۔ جی نہیں جوتسنا کی ماں نے اُس کی شادی بھی کروائی اور جوتسنا اس بات پر بڑی خوش ہے اُس کی خود ایک لڑکی ہے جو اپنی خود کی آنکھوں سے دنیا بھی دیکھ سکتی ہے اور جوتسنا کا شوہر زندگی کے ہر قدم پر اُس کی ہمت افزائی بھی کرتا رہتا ہے۔ اور ہماری ماؤں سے یہ کیسی غفلت ہورہی ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں (صرف لڑکیاں ہی نہیں) اور لڑکوں کی تربیت کے ضمن میں اپنے آپ کو معذور سمجھ رہی ہیں۔اسلامی اور اخلاقی نقطہ نظر سے مسلمان ماؤں اور دوسروں کا تقابل کرنا گناہ ہے تو میں توبہ کرتا ہوں۔ انگریزی اخبارات مسلمانوں کے منفی پہلوؤں کو اُجاگر کرتے ہیں اُن کو پڑھنا اور ذکر کرنا گناہ ہے تو میں توبہ کرتا ہوں اگر مسلمانوں کے مسائل پر مسلمانوں کی توجہ مبذول کروانا گناہ ہے تو میں اللہ کے دربار توبہ کرتا ہوں۔اس طرح مسلمان لڑکی کی عصمت کے لُٹ جانے پر قلم اُٹھانا گناہ ہے تو میں توبہ کرتا ہوں۔
اللہ رب العزت کے دربار میں سچے دل سے توبہ کرتے ہوئے میں قارئین سے سوال کرتا ہوں اس طرح کے مسائل پر اگر ہم غور نہ کریں تو کون کرے گا۔ ہم اپنی لڑکیوں کی تربیت نہ کریں تو کون کرے گا۔ اُمت مسلمہ میں اضافہ کے لئے صرف شادیاں کرنا ہی ذمہ داری نہیں بلکہ اصل ذمہ داری تو اُمت مسلمہ میں جن کے اضافہ کا اللہ نے ہمیں ذریعہ بنایا، اُن کی تربیت کا سامان کرنا ہی ہماری اصل ذمہ داری ہے۔ کاش کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو خود سمجھیں۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT