Thursday , August 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / مرنے سے پہلے مرجاؤ

مرنے سے پہلے مرجاؤ

سیدالطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اﷲ علیہ نے حمل امانت کی بڑی نکتہ آفریں توجیہ فرمائی ہے ۔ فرماتے ہیں : جب اﷲ تعالیٰ نے یہ امانت پیش کی تو آدم ( انسان ) کی نظر اس امانت کے ثقل ( بھاری پن) پر نہ تھی بلکہ امانت پیش کرنے والے حق تعالیٰ پر تھی اور اس پیشکش میں جو لطف و لذت تھی ، اس نے امانت کے بوجھل پن کو نگاہ آدم سے اوجھل کردیا تھا، چنانچہ لطف ربانی نے آدم کی ادائے نیازمندی و ہمت سے خوش ہوکر فرمایا : اے آدم اُٹھانا تیرا کام ، اس کی توفیق دینا اور تیری حفاظت کرنا میرا کام ۔
سلسلۂ قادریہ ملتانیہ کے مشائخ کرام کا کہنا ہے کہ امانت کے دو تقاضے ہیں ایک اعتقادی اور ایک عملی ۔ اعتقادی تقاضا یہ ہے کہ امانت کے بارے میں ہمیشہ یہ اعتقاد رکھے کہ یہ چیز کسی اور کی ہے میری نہیں اور عملی تقاضا یہ ہے کہ اس کو واجب الرد سمجھ کر جس کی ہے اس کو لوٹا دے ۔ اگر امانت رکھوانے والے نے امانت پر تصرف کا اختیار دیا ہے تو اس پر اتنا ہی تصرف کرے جتنا اس کو اختیار دیا گیا ہے ۔ اس کے خلاف نہیں ۔ یہ دونوں تقاضے یعنی اعتقادی اور عملی واجب التعمیل ہیں، ان کی خلاف ورزی خیانت سمجھی جائے گی ۔
عملی تقاضے کو پورا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ امانت واپس لی جانے سے پہلے اپنے ارادے اور اختیار سے خود ہی واپس کردے ، یعنی صفات ذاتیہ کو واپس کرکے خود بے صفات ہوجائے ، اس بے صفاتی کا نام موت ہے ، میت کے پاس نہ حیات ہوتی ہے ، نہ ارادہ ، نہ قدرت ، نہ علم ، نہ سماعت ، نہ بصارت اور نہ کلام ، کچھ بھی تو نہیں ہوتا اس کے پاس ، مرتے وقت یہ صفات واپس لے لی جاتی ہیں اور یہ موت ، ا ضطراری موت کہلاتی ہے ۔ لیکن اگر یہ صفات مرنے سے پہلے واپس کردی جائیں تو یہ موت ، اختیاری موت کہلاتی ہے ، مرنے سے پہلے ان صفات کو واپس کردینا ’موت قبل از موت‘ کہلاتا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد ہے : موتوا قبل ان تموتوا یعنی مرنے سے پہلے مرجاؤ ، یہ مرنے سے پہلے مرجانا کمال تزکیہ ہے کہ نہ حیات اپنی ، نہ ارادہ اپنا ، نہ قدرت اپنی ، نہ علم اپنا ، نہ سماعت اپنی ، نہ بصارت اپنی اور نہ کلام اپنا ۔ سب کچھ حق تعالیٰ کا ۔ اس بے صفاتی کی سینکڑوں نہیں ، ہزاروں مثالیں صوفیہ کرام کے یہاں ملتی ہیں جو ان کی کرامات سمجھی جاتی ہیں۔
یہ دور ، مادیت کا دور ہے ، روحانیت سے بُعد ہوچکا ہے ، اس لئے یہ کرامت بیزار زمانہ ہے ، کسی کرامت کا تذکرہ سننا بھی اب لوگوں کو گوارا نہیں ، اس لئے مثال کے طورپر ایک تاریخی کہانی پیش ہے جو بظاہر کرامت تو نہیں ہے لیکن فی الحقیقت ہے بہت بڑی کرامت ۔ اس سے آپ کو معلوم ہوجائے گاکہ صفات ذاتیہ کس طرح واپس کی جاتی ہیں اور پھر اس کے ثمرات کتنے اعلیٰ و ارفع ہوتے ہیں۔
عراق کے کسی شہر میں موسیٰ نامی ایک لڑکا رہتا تھا ، جس نے بڑی پاکیزہ اور تقویٰ و طہارت کی زندگی گزاری تھی ۔ جب اس نے عہد شباب میں قدم رکھا تو شوق جہاد کا اسیر ہوگیا اور جہاد فی سبیل اﷲ کو اپنا مقصد حیات بنالیا ۔ جب اُمت مسلمہ کو جہاد کی ضرورت پیش آتی تو وہ سب سے آگے رہتا ۔ ایک مرتبہ یہ کسی سفر میں تھا ، کسی ایسے مقام پر اس کا ٹھہرنا ہوا جہاں ہرے بھرے کھیت لہلہارہے تھے۔ وہ کھیتوں کے درمیان سے گزرا تو دیکھا کہ ایک چھوٹی سی نہر کھیتوں کو پانی دینے کیلئے نکالی گئی ہے ۔ وہ سستانے کے لئے اس نہر کے کنارے بیٹھ گیا۔ ہاتھ منہ دھوئے ، نہر کے صاف اور شفاف پانی سے اس کو بڑی فرحت حاصل ہوئی ، نہر کا پانی چلو سے پیا تو تازہ دم ہوگیا ، لیکن صرف پانی سے بھوک تو نہیں مٹتی، وہ شدید بھوکا تھا ، دیکھا تو ایک سیب پانی پر بہتا چلا آرہا ہے ۔ اس نے سیب کھالیا۔ قدرے بھوک مٹ گئی ، معاً اسے خیال آیا، یہ سیب کس کا تھا ؟ یہاں تو سیب کا کوئی درخت نہیں ، کہاں سے بہتا ہوا آرہا تھا ، کس کی ملکیت تھی ، جسے میں نے کھالیا، میرے لئے اس کاکھانا جائز تو نہ تھا۔ وہ سخت تشویش میں مبتلا ہوگیا۔ وہ سوچنے لگا تلافی کی کیاصورت ہوسکتی ہے ، پھر ایک خیال کے تحت وہ پانی کے بہاؤ کی مخالف سمت چل پڑا ، چلتے چلتے دیکھا کہ نہر ایک باغ کے اندر سے آرہی ہے ، وہ باغ کے اندر پہنچ گیا۔ وہاں سیب کے درخت نظر آئے ، اسے یقین ہوگیا کہ سیب اسی باغ کا تھا۔ باغبان درختوں کو پانی دے رہا تھا ۔ پوچھا باغ کس کا ہے ۔ باغبان نے مالک کا نام پتہ بتادیا۔ موسیٰ باغ کے مالک کے پاس پہنچ گیا ، سیب معاف کرنے کی درخواست کی ، مالک نے کہا یہ باغ پورا میرا نہیں ہے ، اس کی ملکیت میں ایک دوسرا شخص بھی حصہ دار ہے لہذا میں اپنے حصہ کا آدھا سیب تو معاف کرتا ہوں ، باقی آدھا سیب تم باغ کے دوسرے حصہ دار سے معاف کرالو۔                                                    …جاری ہے
موسیٰ نے حصہ دار کا نام پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ ابو عبداﷲ ہے ۔ موسیٰ ، ان کے پاس پہنچ گیا، ماجریٰ سنایا اور آدھے سیب کی معافی چاہی ۔ ابوعبداﷲ نے موسیٰ کو سر سے پاؤں تک عجیب نظروں سے دیکھا اور دیکھتا رہا ۔ جیسے وہ کچھ سوچ رہا ہو ، موسیٰ کا دل ڈوبنے لگا ، یا اﷲ اگر ابوعبداﷲ نے معاف نہ کیا تو کیا ہوگا ؟ ابوعبداﷲ کی حیرانی اور موسیٰ کی پریشانی کا عجیب عالم تھا ۔

TOPPOPULARRECENT