Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / مرکزی اسکیمات میں ایس سی، ایس ٹی اور مسلمانوں کا اولین حق

مرکزی اسکیمات میں ایس سی، ایس ٹی اور مسلمانوں کا اولین حق

پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے علاوہ معذورین کو ترجیح دینے چیف منسٹرس ذیلی گروپ کی سفارشات
نئی دہلی 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹرس کے سب گروپ برائے مرکزی اسپانسرڈ اسکیمات نے سفارش کی ہے کہ ایم جی این آر ای جی اے اور سماجی بہبود کی اسکیمات میں ایس سی، ایس ٹی اور مسلمانوں کا اوّلین حق ہونا چاہئے۔ خاص کر معذورین، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو ترجیح دی جائے۔ اس پیانل نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ مرکزی اسپانسرڈ اسکیمات کی تعداد 30 تک گھٹائی جانی چاہئے اور طے شدہ فنڈس میں 25 فیصد کا اضافہ کیا جائے۔ موجودہ طور پر یہ فنڈ 10 فیصد ہے۔ ایم جی این آر ای جی اے اور سماجی بہبود کے لئے بنائی گئی اسکیمات کو اولین طور پر قومی ترقی ایجنڈہ کے لئے دستیاب فنڈس میں سب سے پہلے ترجیح اساس پر فنڈس مختص کئے جائیں۔ چیف منسٹرس کے سب گروپس نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں وزیراعظم نریندر مودی کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مرکزی اسکیمات کو مؤثر بناتے ہوئے اس میں اقلیتوں، پسماندہ طبقات کو زیادہ سے زیادہ حصہ دیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق مرکز نے سالانہ بجٹ 2015-16 ء میں مرکز کی  جاریہ 66 اسکیمات کے منجملہ 55 اسکیمات کو برقرار رکھا ہے۔ اس کے لئے توازن پیدا کرتے ہوئے ان اسکیمات کو یا تو مرکزی شعبہ کے تحت دی جائیں یا پھر نئی اسکیمات وضع کی جائیں یا پھر انھیں ریاستوں کو مستقل کیا جائے۔

پیانل نے کہاکہ مرکزی اسکیمات کی توجہ ان اسکیمات پر مرکوز کی جانی چاہئے کہ اس سے قومی ترقیاتی ایجنڈہ کا مقصد پورا ہوجائے جہاں مرکز اور ریاستوں کو ٹیم انڈیا کے جذبہ کے تحت مل جل کر کام کریں۔ پیانل نے ان اسکیمات کو دو حصوں میں منقسم کردیا ہے۔ ان میں اہم اور اختیاری زمرہ دیا گیا ہے۔ پیانل نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ اہم اسکیمات میں ایسی اسکیمات ہیں جو سماجی تحفظ کی ضمانت دیتی ہیں، انھیں اہم سے اہم اسکیمات کا درجہ دیا جائے۔ عام طور پر کسی بھی شعبہ میں ایک سرپرست اسکیم ہوتی ہے جس کے لئے فنڈس کا وہی طریقہ کار ہوتا ہے جو اس کی تمام ذیلی اسکیمات کے لئے مروج ہے۔ کمیٹی نے تمام غیر اہم اسکیمات کو اب اختیاری اسکیمات کے زمرہ میں شامل کیا ہے اور کہا ہے کہ اہم اسکیم میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان فنڈس کی حصہ داری کے ساتھ یہ حصاری 90:10 کے تناسب سے ہونی چاہئے جو خاص کر شمالی ریاستوں جیسے ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور اترکھنڈ شامل ہیں اور دیگر ریاستوں کے لئے حصہ داری کا تناسب 60:40 ہوسکتا ہے۔ اختیاری اسکیمات کی صورت میں پیانل نے بتایا کہ اس کے لئے شرح حصہ داری کو 11 ریاستوں کے لئے 80:20 کے تناسب سے رکھا جائے اور دیگر 50:50 تناسب مقرر کیا جائے۔ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ نیتی اور وزارت فینانس برائے مرکزی زیرانتظام علاقوں کے ذریعہ مرکزی فنڈس کو صد فیصد مقرر کیا جائے۔ ایسی اسکیمات جیسے آشا، آنگن واڑی، ایس ایس اے معہ معاوضہ، اجرت پھر اس طرح کے فنڈس کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جانی چاہئے۔ 12 ویں پنچ سالہ منصوبہ کی تکمیل تک ریاستوں کو حصہ نہ دیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT