Sunday , July 23 2017
Home / Top Stories / مرکزی حکومت طلاق ثلاثہ روکنے کیلئے قانون سازی کرنے تیار

مرکزی حکومت طلاق ثلاثہ روکنے کیلئے قانون سازی کرنے تیار

مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کا بیان ‘ طلاق ثلاثہ غیرانسانی برخواستگی ضروری :سماجی کارکن اور سابق اداکارہ شبانہ اعظمی
بنگلورو ۔21مئی ( سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت نے آج کہا کہ وہ طلاق ثلاثہ کو روکنے کیلئے ضروری ہو تو قانون سازی کرے گی لیکن اس سے پہلے مسلم برادری کو اس مثبت نتیجہ پر پہنچنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع دیا جائے گا ۔ ڈاکٹر ایم ایس رامیا کے مجسمہ کی رسم اجراء کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے شہری ترقیات ایم وینکیا نائیڈو نے اس کا انکشاف کیا ۔ ڈاکٹر رامیا ایک صنعتکار اور مخیر شخص تھے جو 1962ء میں گوگل ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بانی تھے ‘بعدازاں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایسے ادارے قائم کئے جن میں ایم ایس رامیا میڈیکل کالج بھی شامل ہے جو بچوں کے ردعمل کی شاخ کے ساتھ تعاون کیلئے شہرت رکھتا ہے ۔ یہ شاخ بچوں کو جو جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں مدد کرتی ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ مسلمان بھی ہندوؤں کی طرح جنہوں نے کئی سماجی برائیوں کو ختم کردیا ہے ‘ آگے آنا چاہیئے اور طلاق ثلاثہ ختم کرنے کے اقدامات کرنا چاہیئے جو خواتین کے مفادات کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہیز ‘ ستی ‘ بچپن کی شادی ان تمام کو معاشرہ میں آگے بڑھ کر اور قطعی فیصلے کر کے ان سماجی برائیوں کا خاتمہ کیا تھا ۔مسلم خواتین نے قانونی راستہ اختیار کیا ہے اور سپریم کورٹ میں اس کی سماعت جاری ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ مسئلہ صنفی تعصب اور صنفی انصاف کا ہے اس لئے برادری کو چاہیئے کہ اس پر مناسب ردعمل ظاہر کرے ۔

لدھیانہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب اداکارہ سے سماجی کارکن بننے والی شبانہ اعظمی نے آج کہاکہ طلاق ثلاثہ غیر انسانی ہے ‘ اس سے ہر مسلم خاتون کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا فرض ہے کہ مسلم خواتین کے حقوق کا تحفظ کرے اور اس بارے میں دورائے نہیں ہوسکتی کہ طلاق ثلاثہ نظام ختم کیا جانا چاہیئے ۔ طلاق ثلاثہ کا نظام مکمل طور پر غیرانسانی ہے اور مسلم خواتین کو ان کے حق بااختیاری اور مساوات سے محروم کرتا ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں بھی کہیں بھی طلاق ثلاثہ کی اجازت نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک گیر سطح پر اس مسئلہ پر گرما گرم بحث جاری ہے ۔ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کردیا ہے ‘ اس کے اجلاس پر کئی درخواستیں طلاق ثلاثہ کے دستوری جواز کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی گئی تھیں ۔ ان درخواستوں پر فریقین کے دلائل کی سماعت مکمل ہوچکی ہے ۔ قبل ازیں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقی راستہ سماج کی ترقی کی پیمائش کا یہ ہے کہ اس سماج میں خواتین کتنی بااختیار ہیں دیکھا جائے ۔ اگرکچھ خواتین بااختیار ہوتی ہیں تو انہیں دیگر خواتین کو بااختیار بنانے کی جدوجہد کرنی چاہیئے ‘ انہیں تائیدی گروپس تشکیل دینے چاہیئے ‘ چونکہ طلاق ثلاثہ ایک حساس مسئلہ ہے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس کی بھرپور تائیدکی ہے ‘ چنانچہ مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ انتہائی احتیاط کے ساتھ پیشرفت کررہی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT