Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکزی حکومت کی اسکالر شپس ، طلبہ کو عہدیداروں اور کالجس سے ہراسانی کا سامنا

مرکزی حکومت کی اسکالر شپس ، طلبہ کو عہدیداروں اور کالجس سے ہراسانی کا سامنا

16 نومبر ادخال درخواست کی آخری تاریخ ، عہدیداروں اور کالجس کے انتظامیہ کی تساہلی
حیدرآباد ۔ 9 ۔ نومبر ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی اسکالرشپ کے حصول کے سلسلہ میں طلبہ کو ایک طرف عہدیداروں تو دوسری طرف اسکول اور کالجس کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔ پری میٹرک ، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس اسکالرشپ کیلئے درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ 16 نومبر ہے لیکن ہزاروں طلبہ عہدیداروں اور اسکول اور کالج انتظامیہ کے تساہل کے باعث پریشان  ہیں اور انہیں اندیشہ ہے کہ وہ اہلیت کے باوجود اسکالرشپ سے محروم ہوجائیں گے۔ مختلف کالجس اور اسکولس کے طلبہ اور اولیائے طلبہ نے شکایت کی کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دفتر اور حیدرآباد و رنگا ریڈی کے اگزیکیٹیو ڈائرکٹرس کے دفاتر میں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے اور اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کالجس کے انتظامیہ درخواستیں آن لائین کرنے کیلئے بھاری رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ شکایات ملی ہیں کہ کئی اسکول کے انتظامیہ نے درخواستیں حاصل کرلیں لیکن انہیں آن لائین کرنے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ بعض اسکول انتظامیہ درخواستیں قبول کرنے سے ہی صاف انکار کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی اسکالرشپ کیلئے جاریہ سال قواعد میں ترمیم کی گئی اور درخواستوں کی جانچ اور آن لائین کرنے کی ذمہ داری اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بجائے متعلقہ اسکولس اور کالجس کو دی گئی ہے ۔ اس سلسلہ میں مرکزی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے اسکول اور کالجس کے لئے علحدہ یوزر آئی ڈی پاس ورڈ دیا گیا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے طلبہ کی درخواستیں آن لائین کرسکتے ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے رجوع ہونے والے طلبہ کو حکام کی جانب سے کالجس کا پاس ورڈ دینے سے انکار کیا جارہا ہے اور طلبہ گھنٹوں دفتر میں بیٹھنے کے باوجود مایوس واپس ہورہے ہیں۔ طلبہ اور اولیائے طلبہ کی کثیر تعداد نے سیاست ہیلپ لائین پہنچ کر اپنے مسائل پیش کئے۔ پری میٹرک اسکالر شپ کے سلسلہ میں اگرچہ جاریہ سال مرکزی حکومت کے نشانہ سے زیادہ درخواستیں داخل کی گئیں تاہم ریاستی حکومت نے اعلان کیا کہ جو طلبہ مرکزی اسکالرشپ سے محروم رہیں گے، انہیں ریاستی حکومت اسکالرشپ ادا کرے گی۔ پری میٹرک کے تحت پہلی تا پانچویں جماعت 1000 روپئے جبکہ چھٹویں تا دسویں جماعت 5000 ہزار روپئے بطور اسکالرشپ ادا کئے جاتے ہیں جبکہ انٹرمیڈیٹ کے لئے اور گریجویشن کے لئے 6000 ہزار اور میرٹ کم  مینس کے تحت 25,000 روپئے ادا کئے جاتے ہیں۔ طلبہ نے شکایات کی کہ بعض کالجس میرٹ کم مینس درخواستوں کو آن لائین کرنے کیلئے فی کس 5000 روپئے وصول کر رہے ہیں۔ اس صورتحال سے پریشان طلبہ اور اولیائے طلبہ فینانس کارپوریشن اور اگزیکیٹیو ڈائرکٹرس کے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ اگر کارپوریشن کی جانب سے تمام اضلاع کے ای ڈی دفاتر میں کالجس کے یوزر آئی ڈی پاس ورڈ ڈسپلے کردیئے جائیں تو طلبہ کو کالجس پر انحصار کرنا نہیں پڑے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ کالجس اور عہدیداروں کی ملی بھگت کے نتیجہ میں طلبہ کو پاس ورڈ جاری کرنے سے انکار کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو فوری توجہ مبذول کرتے ہوئے کارروائی کرنی چاہئے تاکہ اقلیتی طلبہ مرکزی حکومت کی اسکالر شپ سے محروم نہ ہونے پائیں۔

TOPPOPULARRECENT