Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکزی حکومت کی اسکالر شپ سے 38 طالبات محروم

مرکزی حکومت کی اسکالر شپ سے 38 طالبات محروم

1.10 لاکھ روپئے کا پتہ نہیں ، اقلیتی فینانس کارپوریشن میں کئی اسکامس
حیدرآباد۔/17مئی، ( سیاست نیوز) اقلیتی اسکیمات میں بے قاعدگیوں سے متعلق یوں تو کئی شکایات عام ہیں لیکن محکمہ کے اعلیٰ عہدیدار معاملات کو بہتر بنانے کے بجائے اقلیتی اداروں کو کھلی چھوٹ دے چکے ہیں جس کے نتیجہ میں طلباء کا نقصان ہورہا ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں ایک ایسا ہی اسکام منظر عام پر آیا جس میں 2013-14کی مرکزی حکومت کی اسکالر شپ سے 38طالبات کو محروم کردیا گیا اور ایک لاکھ 10ہزار 680 روپئے کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ اندرا پریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج ویمنس نامپلی کی یہ طالبات مرکزی حکومت کی اسکالر شپ سے محروم کردی گئیں۔ اگرچہ تمام طالبات کا تعلیمی سال مکمل ہوگیا لیکن آج تک بھی وہ اسکالر شپ کی رقم سے محروم ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے  ایکزیکیٹو ڈائرکٹر حیدرآباد کے پاس رقم کی اجرائی سے متعلق ریکارڈ موجود ہے لیکن یہ رقم کالج کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رقم کہاں گئی۔ طویل عرصہ سے طالبات کے سرپرست اسکالر شپ کا حق حاصل کرنے کیلئے اقلیتی فینانس کارپوریشن اور ایکزیکیٹو ڈائرکٹر کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن انہیں کوئی صحیح جواب نہیں دیا جارہا ہے۔ سرپرستوں کو عہدیداروں کی جانب سے اس معاملہ پر اصرار نہ کرنے کی خواہش کی جارہی ہے اور یہ عذر پیش کیا جارہا ہے کہ ریاست کی تقسیم کے سبب بجٹ جاری نہیں ہوا۔ عہدیداروں کا یہ استدلال اس لئے بھی بے بنیاد ہے کہ یہ اسکالر شپ مرکزی حکومت کی ہے اور بجٹ کی عدم اجرائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ کہ ریاست کی تقسیم کے بعد ہی 2013-14اور 2014-15 کی مرکزی اسکالر شپ کا مکمل بجٹ جاری کردیا گیا۔ اس کے باوجود طالبات کو اسکالر شپ کا نہ ملنا اسکام کو ظاہر کرتا ہے۔ ایکزیکیٹو ڈائرکٹر نے ایس بی آئی نامپلی برانچ کے اکاؤنٹ سے پروسیڈنگ نمبر  105524 کے ذریعہ تمام 38 طالبات کو اسکالرشپ کی اجرائی کی تفصیلات سرپرستوں کو دکھائی ہے لیکن کالج کے اکاؤنٹ میں رقم کا نہ پہنچنا حیرت کا باعث ہے۔ کالج انتظامیہ نے سرپرستوں کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات دکھائی جس میں یہ رقم جمع نہیں ہوئی۔ جب یہ رقم کالج اکاؤنٹ میں نہیں پہنچی تو درمیان میں کس طرح غبن کیا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 2013-14کا معاملہ ہونے کے سبب عہدیداروں نے یہ غبن کیا ہے۔ ویسے بھی اقلیتی فینانس کارپوریشن میں اسکالر شپ اور دیگر معاملات میں کئی دھاندلیاں اور بے قاعدگیاں منظر عام پر آچکی ہیں اور حالیہ عرصہ میں بھی بینکوں سے مربوط قرض کی اسکیم میں دھاندلیوں کا انکشاف ہوا جس کی جانچ پولیس کررہی ہے۔ حکومت نے اینٹی کرپشن بیورو کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیمات میں بے قاعدگیوں کی جانچ کی ہدایت دی ہے۔ گورنمنٹ اندرا پریہ درشنی کالج نامپلی کی اسکالر شپ سے محروم طالبات کے سرپرستوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملہ کی جانچ کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

TOPPOPULARRECENT