Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / مرکزی حکومت کے فیصلے سے عوامی زندگی کی رفتار رُک گئی

مرکزی حکومت کے فیصلے سے عوامی زندگی کی رفتار رُک گئی

سڑکیں، تجارتی ادارے، سیاحتی مقامات سنسان، اشیاء ضروریہ کی خریدی میں بھی پریشانی، مسافرین کو کھانے تک کی دشواری

٭٭٭  لکھ پتیوں کی بھی 100 روپئے کے لئے تکرار
٭٭٭  خانگی دواخانوں میں مریضوں کے ڈسچارج سے انکار
٭٭٭  500 اور 1000 نوٹوں کی تنسیخ، لیکن عوامی مشکلات دور کرنے کوئی میکانزم نہیں

حیدرآباد۔9نومبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے مختلف مقامات اورشہروں کی بیشتر سڑکیں ‘ سیاحتی مقامات ‘ تجارتی ادارے اور سینما گھر سنسان رہے۔ حکومت ہند کی جانب سے 500اور1000کے نوٹوں پر امتناع اور ان کی تنسیخ پر عمل آوری کے آغاز نے شہریوں کو گھروں کی حد تک محدود رہنے پر مجبور کردیا۔ رات دیر گئے سے 500اور 1000کے نوٹوں کی تنسیخ پر عمل آوری کے اعلان نے لکھ پتی لوگوں کو بھی 100کے نوٹ کی شکل میںچند سو کیلئے تکرار کرتے دیکھا گیا۔ شہر کے تجارتی مراکز بالخصوص روزمرہ کے اشیاء کی فروخت کے مقامات پر تاجرینمیںمایوسی دیکھی گئی لیکن کئی علاقوں میں تاجرین نے اپنے مستقل گاہکوں کو ادھار اشیائے  ضروریہ فروخت کئے ۔ گوشت‘ دودھ‘ ادویات اور ترکاری کی دکانوں پر بھی عوام کو پریشانی کے عالم میں دیکھا گیا۔ آٹو ڈرائیورس کے بموجب سڑکوں پر لوگ نہ ہونے کے سبب شہر میں مسافرین کی تعداد بھی کافی کم رہی۔اس صورتحال کے دوران پٹرول پمپس پر جہاں 500اور 1000روپئے کے نوٹوں کا چلن جاری ہے لمبی قطاریں دیکھی گئی لیکن پٹرول پمپ مالکین نے 500روپئے اور 1000روپئے کا پٹرول ڈلوانے پر ہی پٹرول یا ڈیزل فروخت کیا جبکہ بعض پٹرول پمپس پر عوام کو 500یا1000کی نوٹ دیتے ہوئے 100روپئے کا پٹرول ڈالنے کیلئے الجھتے دیکھا گیا۔ شہر کے کئی خانگی دواخانو ںمیں مریضوں کو ڈسچارج کرنے سے انکار کردیا گیا جبکہ وہ گذشتہ شب علاج و معالجہ کی تکمیل کے آج بل کی ادائیگی کے ساتھ ڈسچارج ہونے والے تھے لیکن دواخانہ کے انتظامیہ نے منسوخ شدہ کرنسی کے حصول سے انکار کردیا جس کے سبب مریضوں کو دواخانہ سے روانہ ہونے نہیں دیا گیا۔ اسی طرح بعض دواخانو ںمیں جہاں مریض آپریشن کے لئے داخل ہو چکے تھے انہیں پیسے جمع نہ کروائے جانے کے سبب آپریشن روک دیئے گئے اور کہا جا رہا ہے کہ 100روپئے کے کرنسی نوٹ جمع کروانے پر ہی علاج شروع کیا جائے گا۔شہر کے تاجرین نے اس بات کی شکایت کی کہ اس طرح کی صورتحال وہ پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں کیونکہ کئی دکانات پر صبح سے کاروبار کا آغاز تک نہیں ہو پایا ہے جس کی بنیادی وجہ بازار میں چلنے والی 100روپئے کی نوٹ کی قلت ہے۔500اور1000کے نوٹوں کو منسوخ کردیئے جانے کے فوری بعد پیدا شدہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئی میکانزم تیار نہ ہونے کے سبب عوام کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ اسی طرح شہر میں موجود کئی مسافرین کو نوٹوں کی تبدیلی کی کوشش کرتے دیکھا گیا لیکن انہیں اس میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور اے ٹی ایم بھی بند ہونے کے سبب مسافرین کو کھانے کیلئے بھی دشواریوں کاسامنا کرنا پڑا۔

TOPPOPULARRECENT