Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / مرکزی حکومت کے ملازمین کی 11 جولائی سے غیر معینہ ہڑتال

مرکزی حکومت کے ملازمین کی 11 جولائی سے غیر معینہ ہڑتال

معیشت اور روزمرہ کی زندگی مفلوج ہوجائے گی ، ٹریڈ یونین قائدین کا انتباہ
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : ٹریڈ یونین تنظیمیں ، ملازمین کے دیرینہ مطالبات اور مسائل کی دوستانہ یکسوئی اور ملازمین سے انصاف کے حق میں ہیں اور مرکز سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ یہ بات ذہن نشین رکھے گا کہ حق و انصاف کے لیے ٹریڈ یونین تنظیمیں جدوجہد کے لیے تیار ہیں ۔ ریلوے ملازمین کی تنظیم کی مشترکہ قومی کونسل کے کنوینر شیوا گوپال مشرا نے یہ بات بتائی ۔ ساوتھ سنٹرل ریلوے مزدور یونین کے جنرل سکریٹری سی ایچ شنکر راؤ گورنمنٹ ایمپلائز کنفیڈریشن کے نمائندے وی ناگیشور راؤ اور آل انڈیا ڈیفنس ایمپلائز فیڈریشن کے لیڈر جی ٹی گوپال راؤ نے کہا کہ 33 لاکھ مرکزی سرکاری ملازمین 11 جولائی سے ہڑتال شروع کرنے والے ہیں اور 9 جون کو ہڑتال کی نوٹس دی جاچکی ہے ۔ ٹریڈ یونین قائدین نے حیدرآباد میں اپنی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے این ڈی اے حکومت پر تنقید کی کہ اس نے مزدور دشمنی پالیسیاں اختیار کی ہیں ۔ یو پی اے کی طرح این ڈی اے حکومت بھی چند گروپس کے مفادات کو فروغ دے رہی ہے اور عام آدمی کے مفاد کو بڑی حد تک نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ انڈین ریلویز ، دفاع اور ڈاک خدمات میں نجی کاری اس کی چند مثالیں ہیں اور یہ سب کچھ وسیع تر قومی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا جارہا ہے ۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ۔ یونین قائدین نے خبردار کیا کہ مرکزی حکومت کو غیر معینہ مدت کی ہڑتال کے لیے دی گئی نوٹس کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہئے ۔ یونین لیڈر شنکر راؤ نے کہا کہ اگر انڈین ریلویز نے سات دن ہڑتال کی تو تھرمل پاور اسٹیشن کوئلہ کی عدم سربراہی پر بند ہوجائیں گے اور ہڑتال دس دن جارہی رہی تو انڈسٹریز مفلوج ہو کر رہ جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے 15 دن تک ٹرین سرویس بند رکھی تو ملک کی معیشت اور عوام کی روز کی سرگرمی جام ہو کر رہ جائیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT