Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل کا غیر انسانی رویہ

مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل کا غیر انسانی رویہ

سڑک حادثہ میں زخمی بچوں کو نظر انداز کردینے کا الزام
نئی دہلی ۔ 7 ۔ مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی آج ایک اور تنازعہ میں پھنس گئی ہیں جبکہ ہفتہ کی شب جمنا اکسپریس وے پر پیش آئے سڑک حادثہ میں ہلاک ایک ڈاکٹر کے بچوں نے ان کے دعویٰ سے اختلاف کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے زخموں کی امداد اور بروقت ہاسپٹل پہنچانے کی کوشش کی تھی ۔ ہفتہ کی شب سمرتی ایرانی معمولی زخموں کے ساتھ بال بال بچ گئی تھیں۔ جب ان کی گاڑی اور قافلہ کی گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر دیدی جس کی زد میں آکر ایک موٹر سیکل راں ڈاکٹر رمیش نائر ہلاک اور ان کی دختر سنڈل اور بھتیجہ پنکج زخمی ہوگئے۔ تاہم مرکزی وزیر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ میڈیا میں موٹر سیکل کو ٹکر دینے کی جس گاڑی کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کا سمرتی ایرانی کے قافلہ کی گاڑیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ حادثہ کے فوری بعد انہوں نے ایس ایس پی متھرا کو ہدایت دی تھی کہ ایک ایمبولنس کا انتظام کریں تاکہ زخموں کو جلد از جلد طبی امداد فراہم کی جائے۔ مذکورہ حادثہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایس ایس پی متھرا مسٹر راکیش سنگھ نے کہا کہ موٹر سیکل سے تصادم گاڑی کا وزیر کی گاڑی سے کوئی سروکار نہیں ہے جبکہ ڈاکٹر کی موٹر سیکل کو ایک ہونڈا سٹی کار نے ٹکر دیدی تھی جس کی زد میں مزید دو گاڑ یاں آگئی تھیں۔ دریں اثناء سمرتی ایرانی کی پائلٹ کار وہاں سے گزرتے ہوئے رک گئی تھی اور حادثہ کے 7-8 منٹ تک مرکزی وزیر حادثہ کے مقام پر پہنچ گئی اور فی الفور پولیس کنٹرول کو ٹیلیفون کر کے فی الفور ایمبولنس روانہ کرنے کی ہدایت دی تھیں۔ میڈیا میں اس حادثہ کی اطلاع پر ایرانی اپنے ٹوئیٹر پر بتایا کہ وہ خیر و عافیت سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اکسپریس وے پر حادثہ کی وجہ سے گا ڑیاں روک دی گئی تھی ۔ بدقسمتی سے پولیس کی گاڑی اور میری گاڑی سے دوسری گاڑ یاں متصادم ہوگئیں ۔انہوں نے دیکھا کہ سڑک پر زخمی افراد پڑے ہوئے ہیں ، فی الفور ایمبولنس طلب کرتے ہوئے پولیس کو ٹیلیفون کیا تھا ۔ تاہم مہلوک ڈاکٹر کی دختر سنڈیلی نے آج میڈیا کو بتایا کہ وہ لوگ موٹر سیکل پر جارہے تھے کہ عقب سے ایک گاڑی نے ٹکر دیدی جو کہ مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کی تھی۔ میں نے ان سے مدد بھی طلب کی لیکن انہوں نے یکسر انکار کردیا ۔ اگر سمرتی ایرانی بروقت ہماری امداد کرتی تو ہمارے والد کی موت واقع نہیں ہوتی۔ سنڈیلی کے بھائی ابھیشک نے بھی کچھ اسی طرح کہا کہ ان کے والد سڑک پر مردہ حالت میں پڑے رہے ، زخمی بچے مدد کیلئے چیختے رہے لیکن کوئی آگے نہیں آیا جبکہ سمرتی ایرانی کا قافلہ ورنداون سے دہلی کی سمت جارہا تھا اور مرکزی وزیر حادثہ کا مشاہدہ کرنے کے بعد کار میں بیٹھ کر چلی گئیں لیکن انسانی بنیادوں پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ آگرہ سے موصولہ اطلاعات کے بعد ابھیشک نے پولیس میں یہ ایف آئی آر درج کروائی کہ زخمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سمرتی ایرانی آگے بڑھ گئیں جبکہ مرکزی وزیر کے قافلہ میں شامل ایک تیز رفتار کار نے ڈاکٹر رمیش نائر کی موٹر سیکل کو ٹکر دیدی تھی جو کہ دو بچوں کے ساتھ ایک شادی کی تقریب میں جارہے تھے لیکن مرکزی وزیر کے دفتر نے اس حادثہ کے بارے میں میڈیا کی اطلاعات کو من گھڑت کہانی قرار دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT