Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کے سیاسی مستقبل پر قیاس آرائیاں

مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کے سیاسی مستقبل پر قیاس آرائیاں

بی جے پی دستوری عہدہ سونپنے کوشاں ، دیگر ریاستوں میں نشست کے لیے سرگرداں
حیدرآباد۔/18فبروری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو کے سیاسی مستقبل پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں۔ وینکیا نائیڈو جو کرناٹک سے راجیہ سبھا کے رکن ہیں ان کی میعاد 30جون کو ختم ہورہی ہے۔ ایسے میں انہیں دوبارہ راجیہ سبھا کیلئے منتخب کرنے پارٹی کس حد تک تیار ہے اس بارے میں پارٹی حلقوں اور سیاسی حلقوں میں مختلف امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پارٹی نے انہیں نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ کا پیشکش کیا لیکن وینکیا نائیڈو جو ہمیشہ سرگرم سیاست میں حصہ لینے کو ترجیح دیتے رہے ہیں وہ اس عہدہ کی قبولیت کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ وینکیا نائیڈو نے اس مسئلہ پر بذات خود کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا لیکن ان کے قریبی حلقوں کا ماننا ہے کہ وینکیا نائیڈو خود کو سرگرم سیاست سے دور کرتے ہوئے صرف دستوری عہدہ پر برقرار رہنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ایک طرف بی جے پی کو کرناٹک کے علاوہ کسی اور ریاست کی تلاش ہے جہاں سے وینکیا نائیڈو کو راجیہ سبھا کیلئے منتخب کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر ریاستوں میں پہلے ہی سے راجیہ سبھا کے مضبوط دعویدار موجود ہیں۔ اگر نریندر مودی وینکیا نائیڈو کو مرکزی وزارت میں برقرار رکھنا چاہیں تو انہیں کسی بھی ریاست سے راجیہ سبھا کیلئے منتخب کرنا ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ کرناٹک میں وینکیا نائیڈو کو دوبارہ منتخب کرنے کے امکانات کم ہیں۔ اسی دوران آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے وینکیا نائیڈو کو راجیہ سبھا کی نشست کا پیشکش کیا ہے تاہم بتایا جاتا ہے کہ وینکیا نائیڈو کسی اور پارٹی کی تائید سے راجیہ سبھا میں قدم رکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ مکمل بی جے پی ارکان کی تائید چاہتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی اعلیٰ کمان انہیں اس بات کیلئے راضی کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ آندھرا پردیش سے راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہونے تیار ہوجائیں کیونکہ وہاں تلگودیشم پارٹی بی جے پی کی حلیف جماعت ہے۔ وینکیا نائیڈو جو وزیراعظم کے دست راست مانے جاتے ہیں اور وزیر پارلیمانی اُمور کی حیثیت سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کے حملوں کا مقابلہ کرنے میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے جس کے سبب نریندر مودی انہیں وزارت سے علحدہ نہیں کرسکتے۔ وینکیا نائیڈو کا شمار سیاسی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والی شخصیتوں میں ہوتا ہے۔ ان کی سیاسی زندگی میں کوئی بھی تنازعہ ان کا تعاقب نہیں کرسکا۔ اسی دوران بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے بھی تلنگانہ سے وینکیا نائیڈو کو راجیہ سبھا کیلئے منتخب کرنے کا پیشکش کیا ہے۔ اگرچہ وینکیا نائیڈو آندھرا پردیش سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مرکزی وزیر کی حیثیت سے وہ برقراری کی صورت میں مرکز اور تلنگانہ کے درمیان بہتر روابط اور فنڈز کی اجرائی میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکز سے مناسب فنڈ کے حصول اور حکومت سے قربت کیلئے کے سی آر نے یہ پیشکش کی ہے۔ اس بارے میں ٹی آر ایس کی جانب سے ابھی تک باقاعدہ کوئی تردید نہیں کی گئی۔ دونوں ریاستوں کی پیشکش کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ قطعی فیصلہ خود وینکیا نائیڈو کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ وہ آندھرا پردیش کو تلنگانہ پر ترجیح دیں۔ وینکیا نائیڈو توقع ہے کہ بہت جلد اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرلیں گے۔

TOPPOPULARRECENT