Wednesday , September 27 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکزی کابینہ سے دتاتریہ کی علیحدگی تکلیف دہ

مرکزی کابینہ سے دتاتریہ کی علیحدگی تکلیف دہ

پارٹی ‘قائدین کی خدمات سے استفادہ کرنا جانتی ہے ‘ بی جے پی
حیدرآباد 4 ستمبر ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ بی جے پی نے مرکزی کابینہ سے بنڈارو دتاتریہ کی علیحدگی کو تکلیف دہ قرار دیا ہے تاہم ساتھ ہی کہا ہے کہ حکومت اور پارٹی جانتے ہیں کہ اپنے قائدین کی خدمات سے کس طرح استفادہ کیا جانا چاہئے ۔ ریاستی بی جے پی ترجمان کرشنا ساگر راؤ نے کہا کہ پارٹی کو یہ حق اور آزادی حاصل ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ دتاتریہ کی پارٹی میں ضرورت ہے یا حکومت میں ۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی ہے جس نے فیصلہ کیا تھا کہ دتاتریہ کو مرکزی کابینہ میں ہونا چاہئے ۔ یہ وزیر اعظم تھے جنہوں نے 2014 میں دتاتریہ کو کابینہ میں شامل کیا تھا ۔ دتاتریہ حلقہ لوک سبھا سکندرآباد سے بی جے پی رکن ہیں۔ انہیں کابینہ میں ہوئی تبدیلیوں سے قبل وزارت لیبر کا آزادانہ چارچ دیا گیا تھا ۔ وہ تلنگانہ سے بی جے پی کے واحد رکن پارلیمنٹ ہیں۔ کرشنا ساگر راؤ نے کہا کہ دتاتریہ کو مودی وزارت سے علیحدہ کردیا جانا تکلیف دہ ہے ۔و ہ تلنگانہ سے بی جے پی کے واحد نمائندے تھے اور یہ بات سب کیلئے تکلیف دہ ہے ۔ دتاتریہ کی علیحدگی پر مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی گئی ہیں اور کانگریس و دیگر جماعتوں نے اس کی مذمت کی ہے اور کہا کہ تلنگانہ کو مرکزی کابینہ میں کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزرا ‘ حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ کوئی قاعدہ نہیں ہے کہ ہر ریاست کو مرکزی کابینہ میں نمائندگی ملنی چاہئے ۔ ایسی کئی مثالیں ہیں جب بعض ریاستوں کو مرکزی کابینہ میں کوئی نمائندگی نہیں ملی تھی ۔ کرشنا ساگر راؤ نے نرملا سیتارامن کو وزیر دفاع بنانے کا خیر مقدم کیا ۔ نرملا سیتارامن ہندوستان کی پہلی فل ٹائم وزیر دفاع ہیں۔ انہوں نے اس تقرر کو تاریخی قرار دیا ۔

TOPPOPULARRECENT