Tuesday , October 24 2017
Home / اداریہ / مرکزی کابینہ

مرکزی کابینہ

مرکزی کابینہ میں غیرکارکرد وزراء کو ہٹا دینے کی ضرورت محسوس کرنے والی بی جے پی قیادت کو بہار اسمبلی انتخابات میں شرمناک شکست کے بعد کچھ نہ کچھ عزت بچاؤ کا اقدام کے طور پر عوام کے لئے کام کرنے ہوں گے۔ مرکزی کابینہ میں اس وقت بعض وزراء کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگائے گئے ہیں اور بعض پر بدعنوانیوں کے الزامات ہیں۔ ان کے علاوہ کیلاش وجئے ورگیا، یوگی آدتیہ ناتھ، مہیش شرما اور دیگر جن کا نظریہ ہندوتوا اور نفرت کی سیاست ہے ،کے خلاف کارروائی کرنا بھی ناگزیر بنتا جارہا ہے۔ بی جے پی پارلیمانی بورڈ اور آر ایس ایس کے کرتا دھرتا اس وقت بہار میں شرمناک شکست کے بعد خود احتسابی پر توجہ دے رہے ہیں تو یہ مودی حکومت کے حق میں نسخہ راحت کا کام کرے گا۔ 2001ء میں گجرات کے چیف منسٹر بننے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ مودی کو اس طرح بدترین شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ چیف منسٹر گجرات سے لے کر 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں وزارت عظمیٰ کی حیثیت سے کامیاب ہونے تک مودی نے ناکامی کی صورت نہیں دیکھی تھی لیکن 2015ء کا سال ان کے لئے بدترین شروعات ثابت ہوا۔ دہلی میں پہلی شکست کے بعد بہار میں شرمناک ہزیمت کا وہ سامنا نہیں کرپا رہے ہیں۔ اس لئے کابینہ میں تبدیلی اور اپنی حکومت کی کارکردگی کو موثر بنانے کی فکر کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ بہار میں باہر کے آدمی کو مسترد کردینے کے بعد یہ تو ثابت ہوا کہ لیڈر کا سحر ہر وقت اور ہر جگہ برقرار نہیں رہ سکتا۔ بلاشبہ مودی ،بہار میں اپنی انتخابی مہم کے دوران ہر جلسہ میں کثیر ہجوم جمع کرنے میں کامیاب ضرور ہوئے مگر ہجوم انتخاب جیتنے کے لئے کافی ثابت نہیں ہوسکا۔

پارٹی کے نائب صدر پربھات جھا کا یہ احساس درست ہے کہ آخر اتنی مقبولیت کے باوجود بی جے پی نے عوام کا خط اعتماد حاصل کیوں نہیں کیا۔ اس کی وجہ عوام الناس کے ساتھ مناسب طور پر ہم کلام ہونے میں تکبر و غرور کا عنصر حائل رہا ہے۔ ناکامی کے بعد ہی بی جے پی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آخر اس ناکامی کی ذمہ داری اور جوابدہی کس کے سپرد کی جائے۔ مودی اور امیت شاہ نے مل کر بی جے پی کی تمام باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی تو یہ دونوں ہی پارٹی کی شکست  کے ذمہ دار ہونا چاہئے۔ ان کی حد سے زیادہ خوداعتمادی، چند پارٹی کارکنوں کی بے لگام بیان بازیوں، آر ایس ایس کے صدر کے من مانی بیانات کی وجہ سے بہار کے رائے دہندوں کے سامنے اصلیت آگئی کہ سنگھ پریوار ان کے لئے ووٹ دینا مہنگائی اور تباہی کو دعوت دینا ہے۔ جو عوام دال سبزی کو بھی خریدنے سے قاصر ہوجائیں، وہ بھلا اچھے دن کا خواب دکھاکر صرف من کی بات کرنے والے پر کب تک بھروسہ کرتے۔ بہرحال بی جے پی کو یہ سبق ملنا ہی تھا۔ آنے والے دنوں میں اپوزیشن کے تیور مودی حکومت کے لئے مزید مشکلات پیدا کریں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤز میں مودی حکومت کی ہر خرابی کو شدید شور سے اٹھایا جائے گا۔ پارلیمنٹ کے ایوان میں سنی جانے والی بازگشت دراصل عوام کے احساسات کا مظہر ہوگی۔ پارلیمنٹ میں جی ایس ٹی کے علاوہ متعدد بلوں کو منظور کرانے کا ارادہ کرلینے والی مودی حکومت کو اب اس ارادہ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ سب سے اہم جوڈیشیل ریفارم قانون ہے۔ عدلیہ میں اصلاحات لانے کے لئے مودی حکومت اسے کوشش کی ہے اور اپوزیشن کے ساتھ بات چیت شروع کردی گئی تھی لیکن بہار کی ناکامی کے بعد خود بی جے پی کے اندر ایسی آوازیں اُٹھ رہی ہیں جنہیں کل تک خاموش کردیا گیا تھا۔ کابینہ میں بھی ایسے کئی وزراء ہیں جن کی بولتی بند کرکے صرف ربر اسٹامپ کے طور پر کام لیا جارہا تھا تو کئی وزراء کو اتنی کھلی چھوٹ دی جاچکی تھی کہ انہوں نے اپنی وزارتوں کے ذریعہ بھی ملک میں نفرت کی لہر پیدا کردی تھی۔ اب اس طرح کی من مانی کا سرمائی سیشن کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ کسی بھی پارٹی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ مرکزی قیادت سے لے کر ریاستی سطح کی قیادت تک یکساں سلوک اور یکساں رتبہ رکھا جائے مگر بی جے پی کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں مرکزی قیادت ہی اختیار کل بنادی گئی اور ریاستی سطح کی قیادت اور طاقت صفر پر لاکر کھڑا کردی گئی۔ جب مقامی لیڈر ہی پارٹی سے ناراض رہیں تو کامیابی اور عوام کے لئے کام کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ غیرضروری مسائل پر توجہ دے کر عوام کے بنیادی مسائل کو یکسر نظرانداز کردیا گیا۔ اس غفلت یا حماقت کا خسارہ بہت دیر تک اور کئی جگہ برداشت کرنا پڑے گا۔ بی جے پی قائدین کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آر ایس ایس کے نظریات کو ہی سب کچھ مان کر حکومت کی گئی تو آنے والے دنوں میں سارے ملک سے صفایا ہونے کا امکان قوی ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT