Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / مرکز۔ دہلی حکومت تصادم

مرکز۔ دہلی حکومت تصادم

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
مرکز۔ دہلی حکومت تصادم
عام آدمی پارٹی حکومت اور مرکز کے درمیان تصادم کا سلسلہ ختم نہیں ہورہا ہے۔ غریب بستیوں کی جھونپڑیوں کو منہدم کرنے کا مسئلہ نیا تنازعہ پیدا کرچکا ہے۔ کسی بھی غریب بستی کو منہدم کرنے سے قبل بازآبادکاری کی کوئی اسکیم وضع نہیں کی گئی۔ ریلوے عہدیداروں نے اس بستی کو تہس نہیں کردیا تھا۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کی حکومت پر عوام کی ناراضگی کو ختم کرنے کی غرض سے مرکز کی غلطیوں کو عوام کے سامنے پیش کیا جانا ایک سیاسی تقاضہ کی تکمیل ہے۔ ریلوے عہدیداروں نے اپنے طور پر من مانی کی ہے تو اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔ مرکز سے ریاستی حکومت کا ٹکراؤ بہرصورت ہر دو کے لئے مناسب نہیں ہوتا مگر نریندر مودی حکومت نے ریاستی حکومت کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرلی ہے تو آگے چل کر اس کے کئی سیاسی مضمرات و اثرات مرتب ہوں گے۔ ہر بڑے شہر میں سلم بستیوں کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ گنجان آبادی والے علاقہ ان ناجائز قابضین کے لئے آسان جگہ ہوتے ہیں جہاں وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکمرانی کو کمزور بنانے کی کوشش سیاسی بدنیتی پر مبنی ہے تو آگے چل کر ریاست اور مرکز تعلقات جمود کا شکار ہوں گے۔ دہلی میں ایک اچھی پیشرفت ہوئی ہے کہ اروند کجریوال کو حقائق کا اِدراک ہورہا ہے۔ وہ اپنی حکومت کا ناقدانہ جائزہ بھی لیں گے۔ مرکز کی موقع پرست، انا پرست قیادت کے سامنے اروند کجریوال کو اپنی حکومت کو ثابت قدم رکھنے کی جدوجہد کرنی ہوگی۔ مرکزی حکومت نے سیاست دانوں اور اس کی صفوں میں شامل مفاد پرستوں نے عوام کے مسائل کو یکسرنظرانداز کردیا ہے۔ بہار انتخابات میں اپنی بدترین ناکامی کے بعد مودی حکومت علاقائی پارٹیوں کے ساتھ دشمنی سے پیچھے قدم ہٹانا نہیں چاہتی، لیکن مرکز کا رویہ میڈیا کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگا۔ دہلی میں موجودہ عوامی مسائل کی یکسوئی مرکز کی بھی ذمہ داری ہے مگر غیرسیاسی دانش میں یہ حالات نازک بھی ہوسکتے ہیں۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت کو مضبوط و کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہے کہ مرکز سے تصادم کی راہ اختیار نہ کرے مگر آئے دن مودی حکومت اروند کجریوال کو پریشان کرتی جارہی ہے۔ ریاستوں میں لاقانونیت اور دہشت گردی کا مسئلہ ہوتا ہے۔ دہلی ان دو لعنتوں سے پاک ہے۔ حالیہ برسوں میں دہلی میں سیاسی قائدین کے ناکام منصوبوں کے ذریعہ مزید مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ دونوں حکومتوں کو احتساب کی لاٹھی دکھاکر اچھے کام کروائے جاسکتے ہیں، مگر دہلی کے عوام کو مختلف موضوعات اور عنوانات سے ستایا جارہا ہے تو عام آدمی پارٹی کی حکومت زیادہ مدت تک برقرار رہے گی، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔ یہاں اصل مسئلہ دہلی حکومت اور کانگریس کے درمیان اقتدار کا ہے۔ نریندر مودی حکومت کو حالیہ بہار اسمبلی انتخابات میں ناکامی کے باوجود ہوش نہیں آیا ہے تو وہ دیگر ریاستوں میں بھی یہی غلطی کریں گے۔ حکومت کی سطح پر بعض قوتیں ایسی ہوتی ہیں جو فرقہ پرستوں سے تعلق نہ ہونے کے باوجود محض اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کوشاں ہوتی ہیں۔ اس وقت مرکز کی نریندر مودی حکومت کی نااہلی کا ایک جواز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس نے ٹھوس فیصلے کرکے عوام کو گمراہ کیا ہے۔ اچھے دن آنے کی خواہش میں عوام نے بھی مودی حکومت کو ووٹ دیا تھا۔ بہار انتخابات میں ناکامی کے بعد اس کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ بی جے پی کے ٹوٹتے زور کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کی بڑی اپوزیشن کو بھی حرکت میں آنے کی ضرورت ہوگی۔ مرکز سے دست بازی کے بجائے ریاستوں کے اندر مختلف سماجی مسائل کو دُور کرنے پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ دہلی میں رائج تنگ نظری اور ہٹ دھرمی کو اب ختم کرنا ہوگا۔ عروج و زوال سیاسی زندگی کا حصہ ہے۔ اگر بہار انتخابات میں ناکامی ہوئی تو روزی اور روزگار کے معاملے میں ہر حکومت کو اپنے عوام سے کئے گئے وعدوں کو بہرصورت پورا کرنا ہے۔ ہندوستان کے عام آدمی کی نمائندگی کا جذبہ رکھنے والی پارٹی کو بھی ازخود مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت سے قطع نظر کی مرکز اور ریاست کے بھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے ہیں مگر بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں کے ساتھ ان کا حسن سلوک تصادم کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے۔ دہلی میں کرپشن کیخلاف چیف منسٹر اروند کجریوال کی مہم کا ہی نتیجہ ہے کہ آج دہلی میں کرپشن کے خاتمہ کیلئے کوشش کی جارہی ہے۔ اس تحریک کا مرکز بھی بھرپور ساتھ دیتا ہے تو پھر ملک میں کرپشن، بدعنوانیوں، جھوٹ اور برائی کی نوبت ہی آنے نہیں دی جانی چاہئے۔ کرپشن اس وقت بعض لوگوں کیلئے پسندیدہ موضوع ہے تو بعض حکمرانوں کے سامنے یہ مسئلہ سنگین بھی ہے اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ کوئی انسان اپنی ضرورت کو پوری کرنے کیلئے سامنے والے پر حملہ کرتا ہے تو اسے سراسر رشوت ستانی اور زیادتی سمجھا جائے گا۔ دہلی کی حکومت اور مرکزی اقتدار کے درمیان تصادم کی نوبت بہرصورت ٹھیک نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT