Wednesday , September 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / مرکز اور ریاستوں کے تعلقات پر ملک کی ترقی کا انحصار

مرکز اور ریاستوں کے تعلقات پر ملک کی ترقی کا انحصار

ہندوستان ٹائمز لیڈر شپ سمیٹ سے وزیر اعظم نریندر مودی کا خطاب
نئی دہلی۔/4ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ان کی حکومت ملک کے ترقیاتی عمل میں ریاستوں کو شامل کرے گی اور یہ ایقان ظاہر کیا کہ ہندوستان صرف ریاستوں کے مضبوط کندھوں پر ہی آگے بڑھ سکتا ہے کیونکہ دہلی ( مرکز ) تنہا کچھ نہیں کرسکتی۔ ہندوستان ٹائمز لیڈر شپ سمیٹ سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صرف دہلی سے ہندوستان ترقی کی سمت گامزن نہیں ہوسکتا۔ مرکز میں ریاستوں کیلئے خصوصی شعبوں کے قیام کیلئے ان کی حکومت کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان کی ترقی میں ریاستوں کو اہم رول ادا کرنا ہے کیونکہ مرکز اور ریاستوں کی مشترکہ کاوشوں سے بہترین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ مودی نے 40منٹ کے خطاب میں طنز و مزاح کے تیر بھی چھوڑے اور کہا کہ عوام نے ملک کی ترقی کے حق میں ان کی پارٹی کو اقتدار میں لایا ہے ، انہوں نے کہاکہ ایک پائیدار و مضبوط حکومت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ انتخابات میں عوام کے منقسمہ فیصلہ سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ وزیر اعظم نے یہ ادعا کیا کہ گزشتہ سال نئی دہلی میں ان کی حکومت جائزہ لینے سے قبل ہر ایک شعبہ میں نااہلی اور لاپرواہی کاچلن تھا لیکن انہوں نے سب سے پہلے سرکاری انتظامیہ کو چاو چوبند اور فعال بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ریاستوں کی ترقی کیلئے مرکز کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ان کی حکومت نے بہار میں ریلوے انجنوں کی تیاری کے 2پلانٹس منظور کئے ہیں اور یہ فیصلہ ریاست میں نتیش کمار کے ہاتھوں بی جے پی کی شکست کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں کارآمد نظریات کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن کامیابی و کامرانی کیلئے کارکردگی اور فعالیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی تبدیلی ایک دو دن میں نہیں آسکتی بلکہ سخت محنت و لگن سے کام کرنے پر مطلوبہ نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ قبل ازیں چیرپرسن اور ایڈیٹوریل ڈائرکٹر ’ ہندوستان ٹائمز‘ میڈیا لمیٹیڈ شوبھنا بھارتیہ نے کہا کہ مذہبی مسائل پر منافرت اور تشدد پھیلانے والوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے کیونکہ مذہبی آویزشیں اور فرقہ وارانہ کشیدگی ملک کی تیز رفتار ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہوں نے افتتاحی کلمات میں عالمی سطح پر برانڈ انڈیا کے قیام پر نریندر مودی کی کاوشوں کی ستائش کی تاہم انہوں نے کلیدی اصلاحات پر تعطل کے بارے میں فکر و تردد کا اظہار کیا جس کے نتیجہ میں اراضیات بل اور گڈس اینڈ سرویس ٹیکس بل کی منظوری معرض التواء میں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہماری جمہوریت ہنوز پختہ اور بالغ نظر نہیں ہوئی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ قومی مفادات میں اپوزیشن اور حکمران جماعت باہمی اختلافات کو فراموش کردیں گے۔

TOPPOPULARRECENT