Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکز کو جی ایس ٹی کے نفاذ پر میکانزم واضح کرنے کی ضرورت

مرکز کو جی ایس ٹی کے نفاذ پر میکانزم واضح کرنے کی ضرورت

تقریباً تمام ریاستوں کا جی ایس ٹی پر عمل درآمد سے اتفاق ، اے پی کے وزیر فینانس رام کرشنوڈو کا بیان

وجئے واڑہ۔ 18 اکتوبر (پی ٹی آئی) اے پی کے وزیر فینانس وائی رام کرشنوڈو نے آج کہا کہ گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے عمل درآمد میں اختیار کئے جانے والے میکانزم کو مرکز کی جانب سے واضح کرتا ہے۔ (جی ایس ٹی پر ریاستی وزرائے فینانس کی) امپاورڈ کمیٹی کا جلد ہی دہلی میں اجلاس ہوگا تاکہ اس کے عمل درآمد میں زیرالتواء مسائل کی یکسوئی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً تمام ریاستوں نے جی ایس ٹی پر عمل درآمد کرنے سے اتفاق کیا ہے، لیکن اس میں کچھ مسائل ہیں جنہیں مرکزی حکومت کی جانب سے حل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی پر عمل درآمد کرنے سے ریاستوں کو ان کی آمدنی کا نقصان ہوگا اور مرکز کو اس نقصان کیلئے انہیں معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ رام کرشنوڈو نے کہا کہ ریاستیں عام طور پر ترقیاتی اسکیمات شروع کرتی ہیں اور فنڈس کا تقریباً 80% اس پر خرچ کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت کو ریاستوں کو زیادہ فنڈس فراہم کرنے ہوں گے تاکہ اس کے اخراجات کو پورا کیا جاسکے۔ اے پی کے وزیر فینانس نے کہا کہ انہیں اُمید ہے کہ جی ایس ٹی کا نفاذ توقع کے مطابق آئندہ مالیاتی سال سے ہوگا۔ مرکز اور ریاستوں کی جانب سے ماڈل جی ایس ٹی قانون اور انٹیگریٹیڈ جی ایس ٹی یا iGST قانون کے مسودہ کی تیاری کو مکمل کرلیا گیا ہے اور اسے اوائل نومبر تک عوام میں رکھا جائے گا۔ حکومت نے جی ایس ٹی کو جسے آزادی کے بعد سے انتہائی جامع بالواسطہ ٹیکس اصلاح قرار دیا جارہا ہے ، یکم اپریل 2016ء سے نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن یہ مشکل نظر آتا ہے کیونکہ جی ایس ٹی کیلئے دستوری ترمیمی بل لوک سبھا میں منظور کیا گیا ہے تاہم راجیہ سبھا سے اس کی منظوری کا انتظار ہے جہاں این ڈی اے کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT