Tuesday , September 19 2017
Home / Top Stories / مرکز کو دھکا، ذبح کیلئے مویشیوں کی خرید و فروخت پر امتناع معطل

مرکز کو دھکا، ذبح کیلئے مویشیوں کی خرید و فروخت پر امتناع معطل

اعلامیہ پر مدراس ہائی کورٹ کا حکم التواء برقرار اور سارے ملک میں نافذ، سپریم کورٹ بنچ کا حکم

نئی دہلی 11 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے ایک اہم رولنگ میں کہاکہ ذبیحہ کیلئے جانوروں کے بازار سے مویشیوں کی خرید و فروخت پر امتناع سے متعلق مرکز کے اعلامیہ پر التواء کیلئے مدراس ہائی کورٹ کا عبوری حکم بدستور برقرار رہے گا اور اس امتناع پر التواء کا اطلاق سارے ملک پر ہوگا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کے اس بیان کا نوٹ لیاکہ وہ مختلف فریقوں اور متعلقین کے اعتراضات اور تجاویز پر دوبارہ غور کررہی ہے اور ترمیم کے ساتھ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ بنچ نے کہاکہ ’’یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ کی عبوری ہدایت کو بدستور برقرار رکھا جائے اور اس کو سارے ملک میں وسعت دی جائے‘‘۔ اس کے بعد بنچ نے آل انڈیا جمعیۃ القریش ایکشن کمیٹی کی اس درخواست کی یکسوئی کردی جو مرکز کی طرف سے 23 مئی کو جاری کردہ اعلامیہ کے دستوری جواز کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی تھی۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پی ایس نرسمہا نے مرکز کی طرف سے عدالت میں رجوع ہوتے ہوئے کہاکہ حالیہ اعلامیہ بہرصورت اُس وقت تک نافذ الاثر بھی نہیں ہوسکتا تھا تاوقتیکہ ریاستی حکومتیں مویشیوں کی خرید و فروخت کرنے والی مقامی بازاروں میں اس کے قواعد نافذ نہ کریں۔ مرکز نے جانوروں کے بازاروں میں ذبیحہ کیلئے مویشیوں کی خرید و فروخت پر امتناع عائد کیا تھا۔

یہ ایسا اقدام تھا جس سے گوشت اور چمڑے کی تجارت اور برآمدات بُری طرح متاثر ہوسکتے تھے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو یہ حلف نامہ دینے پر مجبور کردیا کہ وہ گزشتہ دنوں جاری نوٹیفکیشن کو نافذ نہیں کرے گی۔ پچھلے نوٹیفکیشن پر مدراس ہائی کورٹ نے گزشتہ 30 مئی کو روک لگادی تھی۔ جسٹس کھیہر نے درخواست گزار سے کہاکہ حکومت کی طرف سے اگلے تین ماہ بعد جاری ہونے والے نئے نوٹیفکیشن کو دیکھیں اور اگر نئے ضابطہ سے کوئی پریشانی ہو تو وہ دوبارہ عرضی دائر کرسکتے ہیں۔ حیدرآباد کے محمد فہیم قریشی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے کہا تھا کہ مرکز کا نوٹیفکیشن ’امتیازی سلوک والا اور غیر آئینی‘‘ ہے کیوں کہ یہ مویشی تاجروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ درخواست گزار نے مویشیوں کے تئیں بے رحمی کی روک تھام (ضبط شدہ مویشیوں کی دیکھ بھال اور علاج) قانون ، 2017 کو بھی چیلنج کیا ہے۔ پیشے سے وکیل عرضی گزار نے دلیل دی ہے کہ مویشیوں کے تئیں بے رحمی کی روک تھام (مویشی مارکٹ ریگولیشن) قانون 2017 اور مویشیوں کے تئیں بے رحمی کی روک تھام (ضبط شدہ مویشیوں کی دیکھ بھال اور علاج) قانون 2017 من مانا، غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

TOPPOPULARRECENT