Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / مرکز کو پاکستان اور علحدگی پسندوں سے غیر مشروط بات چیت کا مشورہ

مرکز کو پاکستان اور علحدگی پسندوں سے غیر مشروط بات چیت کا مشورہ

وادی کشمیر میں امن کی بحالی کیلئے اپوزیشن پارٹیوں نیشنل کانفرنس ، سی پی آئی ایم کا زور ، باہمی قابل قبول سیاسی حل ضروری
سرینگر ۔ /24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں امن کی بحالی کیلئے زور دیتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں نے خاصکر نیشنل کانفرنس اور سی پی آئی ایم نے مرکز پر زور دیا ہے کہ وہ فوری پاکستان اور علحدگی پسندوں کے ساتھ غیر مشروط بات چیت شروع کرے ۔ کشمیر کی اصل اپوزیشن پارٹی نیشنل کانفرنس نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ساتھ ساتھ علحدگی پسند گروپوں سے بھی مذاکرات کرے اور کشمیر کا باہمی قابل قبول سیاسی حل تلاش کرنے کے لئے اتفاق رائے پیدا کرے ۔ نیشنل کانفرنس نے اپنی اس رائے سے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو  واقف کروایا جو کل یہاں وادی کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے پہونچے ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے وفد نے سابق چیف منسٹر اور پارٹی کے کارگزار صدر عمر عبداللہ کی قیادت میں جائزہ اجلاس میں شرکت کی ۔ مرکزی وزیر داخلہ کو پیش کردہ ایک یادداشت میں نیشنل کانفرنس نے کشمیر کے مسئلہ کو تسلیم کرنے میں مرکز کی ناکامی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کو سیاسی سطح پر ہی دونوں فریقین مل بیٹھ کر حل کریں ۔ داخلی اور خارجی دونوں جانب اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ دیکھ کر شدید صدمہ ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت وادی کی صورتحال سے نمٹنے میں مسلسل ناکام ہورہی ہے ۔

وادی کی موجودہ بدامنی پر بھی وہ قابو پانے سے قاصر ہے ۔ لا اینڈ آرڈر مسئلہ نازک بنادیا گیا ہے ۔ کشمیر میں سیاسی جذبات کو سمجھنے کیلئے نئی دہلی نے کوئی طریقہ کار اختیار نہیں کیا ۔ نیشنل کانفرنس کے وفد نے توقع ظاہر کی کہ مرکز اس کے مشورہ پر غور کرے گا اور کشمیر کی سیاسی تقاضوں کو سمجھتے ہوئے فوری قابل لحاظ سیاسی مذاکرات کا آغاز کرے گا ۔ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے علاوہ داخلی طور پر علحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات ہونی چاہئیے ۔ جموں و کشمیر کی سی پی آئی ایم یونٹ نے بھی مرکز پر زور دیا کہ وہ تمام دعویدادروں سے غیر مشروط بات چیت شروع کرے ۔ سی پی آئی ایم کے ایم ایل اے ایم وائی تریگامی ، غلام نبی  ملک ، محمد افضل برارے اور محمد امین دار پر مشتمل وفد نے یہاں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور اپنی تجاویز پیش کئے ۔ سی پی آئی ایم وفد نے راجناتھ سنگھ پر زور دیا کہ وہ وادی کشمیر کے تمام دعویداروں اور خاصکر ناراض گروپ سے فوری بات چیت شروع کریں ۔ کشمیری عوام کی شکایات کا ازالہ ان کے زخموں کو مندمل کرنے والے اقدامات وقت کا تقاضہ ہیں ۔

مرکز نے وادی کے حق میں اب تک جو کچھ وعدے کئے تھے ہنوز مکمل نہیں کیا گیا ہے ۔ تاخیر کے بغیر اگر مرکز فوری اقدامات کرتا ہے تو حالات کو قابو میں لانے میں مدد ملے گی ۔ ہم کو ڈر ہے کہ اگر مرکز کی جانب سے فوری مناسب کارروائیاں نہیں کی گئی تو صورتحال مزید ابتر ہوگی ۔ آنے والے دنوں میں ریاست کا امن و سکون تباہ ہوجائے گا ۔ وفد نے راجناتھ سنگھ کو وادی کے اندر پھیلی بدامنی اور بے چینی سے بھی واقف کروایا ۔ اس دوران کانگریس لیڈر جیوترویدیتہ سندھیا نے کہا کہ وادی کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان مرضی کی شادی ٹھیک سے نہیں چل رہی ہے ۔ اس لئے مرکز کی مودی حکومت کو چاہئیے کہ وہ کشمیریوں کا دل جیتنے کی کوشش کرے ۔ کشمیریوں کا دل صرف مالیاتی پیاکیجس کے ذریعہ جیتا نہیں جاسکتا ۔ وادی کشمیر کے کئی حصوں میں خاصکر جنوبی کشمیر میں گزشتہ 15 دن سے تشدد کے واقعات دیکھے جارہے ہیں اور کشمیر کی اتحادی حکومت ان پر قابو پانے میں ناکام ہے وہ معاشی ترقی کا فقدان ہے اور نوجوانوں کے لئے روزگار کے کوئی مواقع دستیاب نہیں ہیں ۔ وادی کشمیر کے پانچ اضلاع میں کرفیو برقرار ہے ۔

TOPPOPULARRECENT