Saturday , August 19 2017
Home / دنیا / مرکز کی بی جے پی حکومت کالا دھن واپس لانے کی اہل

مرکز کی بی جے پی حکومت کالا دھن واپس لانے کی اہل

سابق صدرجمہوریہ مرحوم اے پی جے عبدالکلام کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں سے سبرامنیم سوامی کا خطاب

واشنگٹن 19 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) سینئر بی جے پی قائد سبرامنیم سوامی نے آج اس بات پر اعتماد کا اظہار کیاکہ حکومت ہند بیرونی ممالک کی مختلف بینکس میں جمع کالے دھن کو واپس لانے کی اہل ہے جس کا تخمینہ 125 لاکھ کروڑ روپئے لگایا ہے۔ ورجینیا کے ایک مضافاتی علاقہ میں ہندوستانی برادری کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی فطرت سے وہ اچھی طرح واقف ہیں اور اُسی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ کالا دھن ملک میں واپس ضرور آئے گا اور اس سلسلہ میں حکومت جلد ہی کارروائی کا آغاز کرے گی۔ لیڈ انڈیا 2020 کی جانب سے منظم کردہ تقریب کے دوران سبرامنیم سوامی نے مزید کہاکہ کالے دھن کو واپس لانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ تقریب کا اہتمام سابق صدرجمہوریہ مرحوم اے پی جے عبدالکلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ہندوستان اگر کچھ جرأت مندانہ معاشی اصلاحات کا نفاذ کرے تو ہندوستان میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ ترقی کے تناسب کو سالانہ 12 تک مستحکم کرسکے۔ ضرورت صرف عوام میں بیداری پیدا کرنے اور مستحکم معیشت کی جانب راغب کرنا ہے۔

سبرامنیم سوامی نے کہاکہ وزیراعظم چونکہ دہلی میں نئے ہیں اور ان کے پرانے مشیر بھی پرانی ڈگر پر ہی گامزن ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ سبرامنیم سوامی نے انکم ٹیکس کو ختم کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ انھوں نے سابق وزیراعظم آنجہانی پی وی نرسمہا راؤ کی معاشیات کے شعبہ میں اصلاحات کے لئے جرأت مندانہ اقدام کی زبردست ستائش کی۔ اُنھوں نے کہاکہ اب بھی حکومت ہند اس بات پر غور کرے کہ کم سے کم یوم جمہوریہ کے موقع پر آنجہانی پی وی نرسمہا راؤ کو بعد از مرگ بھارت رتن کے ایوارڈ سے نوازا جائے۔ اُنھوں نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کا تذکرہ بھی کیا جس کا حال ہی میں اختتام عمل میں آیا ہے اور کہاکہ اپوزیشن کے ساتھ آپ کا اچھا رویہ مثبت نتائج کی طمانیت نہیں دیتا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم نریندر مودی مانسون سیشن سے ضرور کچھ نہ کچھ سبق سیکھیں گے۔ ابتداء میں بی جے پی کی نئی حکومت نے یہی سوچا کہ اپوزیشن کو کسی بھی حالت میں ناراض نہ کیا جائے بلکہ اس طرح اہم بِلوں کو منظور کرتے ہوئے انھیں قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے بہتر گورننس کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے لیکن ہوا یہ کہ پارلیمنٹ میں مانسون سیشن کے دوران بار بار رخنہ اندازی کی گئی اور ایوان کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ بات کون سی حکومت کہہ سکتی ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ اچھا رویہ مثبت نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ تاہم میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کسی بھی حکومت کو سمجھنا چاہئے۔ ایک کمزور اپوزیشن کے ساتھ نرم رویہ قابل فہم ضرور ہے لیکن جب ایوان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری اپوزیشن پر عائد ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT