Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکز کی نئی تعلیمی پالیسی مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول ، مسودہ پر نظر ثانی کا مطالبہ

مرکز کی نئی تعلیمی پالیسی مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول ، مسودہ پر نظر ثانی کا مطالبہ

مسلمانوں اور دیگر ابنائے وطن پر دیومالائی ہندو تہذیب مسلط کرنے کی کوششوں کی مخالفت ، پرکاش جاوڈیکر کو مسلم تنظیم کا مکتوب
حیدرآباد۔/16اگسٹ، ( پریس نوٹ ) مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کی طرف سے تیار کردہ نئی تعلیمی پالیسی 2016 کے مسودہ پر تلنگانہ کی مسلم ایجوکیشن سوسائٹی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کا مسودہ ہندوستانی سیکولر مملکت کے روح و جذبہ اور دستور کے مغائر ہے کیونکہ اقدار پر مبنی تعلیم کے نام پر کثیر تہذیبی ہندوستانی سماج میں ایک ( ہندو ) تہذیب کو زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو مسلمانوں اور دیگر ابنائے وطن کیلئے ناقابل قبول ہے۔ مسلم ایجوکیشن سوسائٹی نے اس ضمن میں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے نمائندگی کی ہے اور مرکزی وزیر انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس میں نئی تعلیمی پالیسی کے مسودہ سے مسلمانوں اور دیگر طبقات کو تعلیمی و دیگر شعبوں میں پہونچنے والے نقصانات کا تذکرہ کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیا۔ سوسائٹی کے جنرل سکریٹری ایم ایس فاروق کی دستخط سے جاری اس 15نکاتی منشور مطالبات میں کہا گیا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی سے اشارہ ملتا ہے کہ ہندوستانی تاریخ کے بجائے دیو مالائی کہانیوں اور ہندوستانی فلسفہ کو ہندو دیو مالائی تناظر کے ساتھ شامل کا جائے گا۔ یوگا کے لزوم کے ساتھ ویدوں کی تہذیب کو فروغ دیتے ہوئے تعلیم میں سنسکرت کو عام کیا جائے گا۔ یہ چند ایسے پہلو ہیں جو کسی بھی صورت میں مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتے کیونکہ اس میں ہندو قوم پرستی کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی 2016 کو اگرچہ معیاری تعلیم تک سب کی مساویانہ رسائی کی کوشش ظاہر کیا گیا ہے لیکن اس کو موجودہ شکل میں قبول کرنے کی صورت میں اس سے نہ صرف اقلیتوں کو نقصان پہونچے گا بلکہ ہندوستانی دستور کیلئے بھی ایک سنگین چیلنج پیدا ہوگا۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ، رنگناتھ مصرا کمیشن کی رپورٹ اور ایسی ہی دیگر کئی رپورٹوں نے مختلف شعبوں بالخصوص تعلیمی شعبہ میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب کی تفصیلات پیش کی ہیں اور نئی تعلیمی پالیسی 2016 کے مسودہ نے اس ضمن میں مسلم اقلیت کی تشویش میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ سوسائٹی نے اپنی یادداشت مطالبات میں کہا ہے کہ ٹی ایس آر سبرامنیم کمیٹی کی سفارشات نے کئی اقلیتی تنظیموں اور اداروں کی طرف سے ظاہر کردہ نظریات کو ملحوظ نہیں رکھا بلکہ اقلیتوں کو دستور کی دفعہ 30(1) کے تحت دیئے گئے حقوق کو بے اثر کرنے کیلئے بعض فرقہ پرست و متعصب عناصر کے مطالبات کو قبول کرلیا۔ یادداشت میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی کے مسودہ نے ہندوستانی تعلیمی پالیسی کے معمار اور ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوستانی جدوجہد آزادی کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیر فروغ انسانی وسائل کو یاد دلایا گیا کہ 1976 میں 42ویں دستوری ترمیم سے قبل تک اسکولی تعلیم ریاستوں کے دائرہ کار میں تھی لیکن موجودہ موقف سے تعلیمی شعبہ میں ابتری ہی دیکھی گئی ہے۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکولی تعلیم کے اُمور ریاستوں کے تفویض کئے جائیں تاکہ مختلف ریاستی اپنی علاقائی ضروریات کے مطابق پالیسی سازی کرسکیں۔ مزید برآں 1968 کی تعلیمی پالیسی میں سہ لسانی فارمولہ اختیار کیا گیا تھا لیکن اس پر خلوص و دیانتداری کے ساتھ عمل آوری نہیں کی گئی جس کا خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑا کیونکہ حککمتیں مسلم طلبہ کو ان کی مادری زبان میں تعلیم کی فراہمی میں ناکام ثابت ہوئیں۔ مسلم طلبہ کو مجبوراً اپنی مادری زبان کے بجائے علاقائی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنا پڑا ۔ چنانچہ سہ لسانی فارمولہ پر موثر عمل آوری ضروری ہے۔ سوسائٹی نے اس بات پر بھی سخت افسوس کا اظہار کیا کہ نئی تعلیمی پالیسی 2016 کا مسودہ تیار کرنے والی پانچ رکنی کمیٹی میں اقلیتی طبقہ کا ایک رکن بھی نہیں ہے۔ ان چند حالات و حقائق کے پس منظر میں نئی تعلیمی پالیسی 2016 کے مسودہ سے مسلمانوں میں اپنی زبان،روایات اور شناخت کو لاحق خطرات پر تشویش کی۔ مسلم ایجوکیشن سوسائٹی نے یادداشت کے آخر میں وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر سے درخواست کی کہ وہ اقلیتوں کو لاحق تشویش کے ازالہ کیلئے فی الفور مداخلت کریں اور ہندوستانی قومی تعلیم میں سیکولر تانے بانے کو پوری مضبوطی کے ساتھ برآور رکھنے کیلئے نئی تعلیمی پالیسی 2016 پر تفصیلی نظرِ ثانی کرتے ہوئے ایک نئی  مسودہ سازی کی جائے۔

TOPPOPULARRECENT