Wednesday , October 18 2017
Home / اداریہ / مرکز کی نئی تعلیمی پالیسی

مرکز کی نئی تعلیمی پالیسی

ہندوستانی مسلمانوں کے تعلق سے ان دنوں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ قوم اب دماغ کا استعمال کم اور معدے کا استعمال زیادہ کررہی ہے۔ جو لوگ دماغ کے بجائے معدے سے سوچتے ہیں ان کے سامنے پہاڑ جیسے مسائل بھی ہوں تو انھیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ ہندوستانی مسلمان ان کے خلاف سازشوں سے بے خبر بھی نہیں ہیں لیکن اس خبر گری کے باوجود ایک چھوٹا سا دماغ حرکت میں لانے کی فکر سے دور ہیں۔ مرکز کی نئی تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار ہورہا ہے۔ اس نئی تعلیمی پالیسی کے بارے میں ملک بھر کی مسلم تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے نمائندگی کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اجلاسوں اور جلوس و جلسوں میں مرکز کی نئی تعلیمی پالیسی اور اس کے اثرات پر غور و فکر کرتے ہوئے وزارت فروغ انسانی وسائل سے نمائندگی کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ پالیسی کے بعض دفعات کے ذریعہ مسلم طلباء کو ہندو طرز کی زندگی گزارنے کی ترغیب دینے کی درپردہ کوشش کی جارہی ہے۔ یوگا، سوریا نمسکار اور دیگر ایسے عوامل جن سے مذہبی تشخص پر آنچ آسکتی ہے اسکولوں میں مسلم بچوں سے کروائے جائیں گے۔ مسلمانوں کو بہتر سے بہتر سماجی، معاشی اور تعلیمی سہولتیں دینے کے بجائے جب مرکزی حکومت نئی یا نظرثانی شدہ تعلیمی پالیسی کے ذریعہ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کے لئے گمراہ کن اقدامات کرنے جارہی ہے تو اس کے خلاف تمام مسلمانوں کو اُٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ اب تک کی جو نمائندگیاں ہوئی ہیں اس سے مرکز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ جب تک مسلم معاشرہ اجتماعی طور پر اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے اُٹھ کھڑا نہیں ہوگا ان کے مدمقابل حکمراں طبقہ انھیں بُری طرح نظرانداز کرتا رہے گا۔ وزارت فروغ انسانی وسائل کی رپورٹ کے مطابق جو نئی تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کیا گیا ہے اس میں تعلیمی شعبوں کے اہم اُمور کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض اُمور پر نظرثانی کی گئی ہے۔ تاریخ ہند کو مسخ کرکے نئے دیو مالائی کہانیاں اور من گھڑت قصے کہانیاں بناکر نصاب تیار کرکے بچوں کو پڑھایا جائے تو پھر ہندوستانی تاریخی، تہذیب و تشخص کو نقصان پہونچانے کی سازش ہے۔ ویدک کلچرل، گروکل روایات کو فروغ دیتے ہوئے ہندو نظریات کو عوام الناس پر تھوپنے کی پالیسی سراسر ہندوستانی مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ تعلیمی شعبہ کو عصری اور مؤثر بنانے کے بجائے اگر فرقہ پرستی و کٹر پسندانہ زعفرانی نظریات سے بھرا نصاب تیار کرلیا جائے تو آگے چل کر ہندوستان کا سارا تعلیمی محاذ موجودہ حکومت کی مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا رہے گا۔ مرکز کے نئے تعلیمی مسودہ قانون کو اقلیتی تعلیمی اداروں کے مفادات کے مغائر سمجھا جارہا ہے تو اب تک اس پالیسی کے خلاف پھس پھسی نمائندگی کیوں ہورہی ہے۔ ملک کی صرف چند ریاستوں کے اپوزیشن پارٹیوں اور مقامی مسلم تنظیموں نے وزارت فروغ انسانی وسائل سے نمائندگی کی ہے اور بعض مقامات پر معمولی احتجاجی مظاہرے بھی درج کئے گئے ہیں۔ کرسچن ٹرسٹوں کی جانب سے مرکز کی نئی تعلیمی پالیسی کی شدید مخالفت کی گئی ہے۔ لہذا مسلمانوں کو دیگر اقلیتوں کے ساتھ مل کر وزارت فروغ انسانی وسائل کی اس نئی تعلیمی پالیسی کے خلاف منظم نمائندگی کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس نئی تعلیمی پالیسی میں ہندوستان کے اندر اب تک مسلمانوں کی گرانقدر خدمات اور مسلم تعلیمی اداروں کے احسانات کو یکسر نظرانداز کردیا گیا ہے۔ تعلیم کو ویدک طرز دے کر یہ حکومت یہی ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ ہندوستان ایک ہندو راشٹرا تھا۔ مرکز کی تعلیمی پالیسی یا کوئی اور اقدام کے ذریعہ ہندوستان کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ابنائے وطن کے ساتھ مسلمانوں کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ہوگی لہذا مرکز کی اس پالیسی کے خلاف اپنی جدوجہد میں تمام اقلیتوں کو شامل کرکے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤثر نمائندگی بلکہ پالیسی کو موافق تاریخ ہند بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ ملک من گھڑت قصے کہانیوں کے ذریعہ دنیا کے نقشہ پر نمایاں نہیں ہوا بلکہ ملک کی ترقی اس کے تہذیب و ثقافت اور تاریخ کو مضبوط بنانے میں ملک کے ہر باشندہ نے اپنا رول ادا کیا ہے اور اس رول میں مسلمانوں کا کردار سب سے زیادہ اہم اور نمایاں بھی رہا ہے۔ اب اچانک سے عوام کی منقسم رائے سے اقتدار حاصل کرنے والی زعفرانی قوتیں تاریخ ہند کو توڑ مروڑ کر اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ لہذا ہندوستانی مسلمانوں کو دماغ سے کام لینے کا وقت آگیا ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی نشونما درست کرسکیں اور آنے والی نسلوں کو موجودہ اقتداری قوتوں کی غلطیوں اور شرپسندانہ پالیسیوں سے محفوظ رکھ سکیں۔ حکومت نے یکساں اور معیاری تعلیمی نظام کے نام پر دھاندلیاں کرنے کو اپنا جائز حق متصور کرلیا ہے تو یہ اس کی فاش غلطی ہے اور ہندوستانی عوام اس کی سازش فاش غلطی کا ہرگز شکار نہیں ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT