Thursday , June 22 2017
Home / Top Stories / مرکز کے حالیہ امتناع کے بعد‘ کلیابی بریانی کی قیمت میں اضافہ

مرکز کے حالیہ امتناع کے بعد‘ کلیابی بریانی کی قیمت میں اضافہ

حیدرآباد:گاؤ رکشکوں کی جانب سے میویشیوں کا کاربار کرنے والو ں کو جانوروں کی خرید وفروخت کے خلاف دھمکانے کے نتیجے میں بیف کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہہ سے بیف کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور کئی ایک چھوٹی دوکانیں شہر میں بند کردی گئی ہیں۔کئی لوگ شہر میں کلیانی بریانی کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ لذیذ ہونے کے ساتھ ساتھ کم قیمت پر دستیاب رہی ہے مگر اس کی بھی قیمتیں اب بڑھ گئی ہیں۔

مرکز کی جانب سے جانوروں کے ذبیحہ پر امتناع کے بعد شہر کے لوگ ان پندرہ لاکھ زندگیوں کے لئے پریشان ہیں ہیں جن کا ریاست میں دار مدار بیف کے کاربار پر ہے۔بیف کی قیمت میں200سے260فی کیلوتک کا اضافہ ہوگیا ہے جبکہ ریٹل قیمت میں 110فی کیلو سے بڑھ کر170-180تک پہنچ گیا ہے۔محمد معین الدین قریشی جو میویشیوں کے تاجرہیں اور گوشت کا کاروبار بھی کرتے ہیں نے کہاکہ’’ اعلامیہ جاری ہونے کے بعد‘ کچھ گروپس ہیں جو جانوروں کی منڈی جاکر میویشی فروخت کرنے والوں کو ڈرانے اور دھمکانے کاکام کررہے ہیں۔

امتناع کے بعد کے فوری حالات ‘ ان ہوٹلوں میں جہاں کلیانی بریانی سربراہ کی جاتی ہے مزید کم قیمتوں میں کلیانی بریانی سربراہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے قیمت میں اضافے کی بات کررہے ہیں۔اعلامیہ کے شہر پر ہونے والے اثر کے متعلق ایک ہوٹل مالک نے کہاکہ ’’ حالیہ دنوں میں جب میرا بھائی سدی پیٹ میں میویشیوں کی مارکٹ سے جانورکی خریدی کے لئے گیا تب وہاں پردائیں بازوگروپ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آکر وہاں پر کسانوں کو جانور فروخت نہ کرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔

پچھلے ہفتے ریاست کے مختلف علاقوں میں جانوروں کی خریدی کرکے لوٹنے والے تاجروں کو روک کر ان کے جانور چھین لئے گئے اور مذکورہ جانوروں کو گاؤ شالہ منتقل کردیاگیاجبکہ ان میں بیل اور بھینس تھے اور تاجروں کو لوٹ لیاگیا‘‘۔قریشی نے کہاکہ شہر میں30فیصد کے قریب بیف کی ریٹل دوکانیں بند ہوگئی ہیں۔

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق راجو شنڈے جو ایک مشہور ہوٹل کا مالک ہے نے کہاکہ’’ ہم 260روپئے کیلو بیف خرید نے پر مجبور ہیں جبکہ ہمیں200روپئے میں بیف ملتا تھا۔ ایسا ہی سلسلہ جاری رہا تو ہم قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبورہوجائیں گے۔ رمضان کی وجہہ سے ہم قیمتوں میں اضافہ نہیں کررہا ہے‘‘

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT