Tuesday , July 25 2017
Home / ہندوستان / ’’مرکز یہ ثابت کرے کہ طلاق ثلاثہ، اسلام میں لازمی نہیں ہے‘‘

’’مرکز یہ ثابت کرے کہ طلاق ثلاثہ، اسلام میں لازمی نہیں ہے‘‘

اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کی ہدایت، اسلام میں طلاق کے تینوں اقسام یکطرفہ ،روہتگی کا ادعا
نئی دہلی ۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ دستور کی دفعہ 25 کے تحت طلاق ثلاثہ آیا دین اسلام کا لازمی جزو ہے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی قیادت میں پانچ رکنی دستوری بنچ نے کہا کہ ’’ہمیں طلاق ثلاثہ‘‘ کے لازمی جزو ہونے کا پتہ چلانے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں حکومت کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ طلاق ثلاثہ دین اسلام کا لازمی جزو نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں مذہب سے چھیڑ کے مترادف ہوگا۔ بنچ نے حکومت سے دریافت کیا کہ اگر وہ (حکومت) سمجھتی ہیکہ تین طلاق کا عمل غلط ہے تو پھر اصلاحات کیلئے قانون وِضع کیوں نہیں کرتی۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ مسلم برادری میں طلاق کی تمام تین قسمیں ’’طلاق بدعت‘‘ ۔ ’’طلاق حسن‘‘ اور ’’طلاق احسن‘‘ تمام تین ہی یکطرفہ اور ماورائے عدلیہ ہیں۔ روہتگی نے کہا کہ ’’ہاں ہم قانون وضع کرسکتے ہیں کیونکہ گذشتہ 60 سال سے کوئی قانون ہی نہیں ہے۔ یہ (قانون وضع) نہیں کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسلم شادی اور طلاق جیسے مسائل کو 1937 کے شرعیہ قانون کے تحت مذہب سے علحدہ کردیا گیا تھا اور اس قانون کی دفعہ 2 کے تحت مسلم پرسنل لاء میں شامل کیا گیا تھا۔ روہتگی نے کہا کہ ’’مسلم خواتین کو جائیداد، شادی اور تولیت میں مساویانہ حقوق حاصل ہونا چاہئے اور اسی درجہ کی خواتین اوردیگر طبقات کے درمیان ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے‘‘۔ روہتگی نے کہا کہ جب کسی مخصوص طبقہ کی آدھی آبادی بااختیار نہیں ہوتی اور اس کو مساویانہ مواقع فراہم نہیں کئے جاتے۔ انہیں صنفی مساوات حاصل نہیں ہوتے تو وہ (طبقہ) دستوری اخلاقیات کے امتحان میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام پرسنل لاء (عائیلی قوانین) بھی دستوری تصدیق توثیق کے حامل ہونا چاہئے، جس پر دستوری بنچ نے اصرار کیا کہ حکومت چاہئے کہ سب سے پہلے وہ یہ ثابت کرے کہ طلاق ثلاثہ اسلام کا ’’جزولازم‘‘ نہیں ہے، جس کے بعد ہی اس مقدمہ کے دیگر پہلوؤں پر غور کیا جاسکتا ہے۔ تاہم روہتگی نے اپنے استدلال کی دفاع میں کہا کہ ہندو مذہب میں ہندو خواتین اس وقت تک ستی کی رسم پر عمل کیا کرتی تھیں تاوقتیکہ قانون نے اس کو غیرقانونی اور فرسودہ قرار دیا تھا۔ روہتگی نے کہا کہ جہاں تک ہندو قوانین کا تعلق ہے، مختلف اصلاحی اقدامات کئے گئے لیکن جہاں تک مسلم قوانین کا تعلق ہے اس ضمن میں اس قسم کے (اصلاحی) اقدامات نہیں کئے گئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT