Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / مزدوروں کی ملک گیر ہڑتال حکومت کی بے رخی کا نتیجہ

مزدوروں کی ملک گیر ہڑتال حکومت کی بے رخی کا نتیجہ

مودی حکومت اپنے دوست صنعتکاروں کو فائدہ پہونچارہی ہے : کانگریس
نئی دہلی ۔ 2 سپٹمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے 10ٹریڈ یونینوں کی جانب سے آج کی گئی ملک گیر ہڑتال سے اظہاریگانگت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مزدوروں اور محنت کشوں کے تئیں حکومت کی بے اعتنائی اور سردمہری کے سبب یہ ہڑتال کی گئی ہے ۔ کانگریس کے ایک ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے کہاکہ ’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح انگریزوں نے اس ملک کے لاکھوں مزدوروں کی قیمت پر ایسٹ انڈیا کمپنی کو فائدہ پہونچایا تھا بالکل اسی طرح مودی حکومت بھی اپنے پانچ ۔ چھ تاجر و صنعتکار دوستوں کو فائدہ پہونچانا چاہتی ہے ‘‘۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ہڑتالی یونینوں کے ساتھ بات چیت میں یہ حکومت ناکام رہی ۔ مودی انتظامیہ کے گھمنڈ اور ضد سے یہ تعطل پیدا ہوا تھا اور آج ملک گیر ہڑتال کی گئی ۔ ابھیشیک سنگھوی نے کہاکہ ’’مزدوروں و محنت کشوں کے مسائل اور پریشانیوں سے حکومت بے تعلقی اختیار کررہی ہے ۔ مزدوروں اور محنت کشوں کیلئے نقصان دہ اور حکومت کے دوست صنعتکاروں اور تاجرین کیلئے فائدہ مند ثابت ہونے والی قانونی تبدیلیوں کی دیوانہ وار کوششوں سے اس حکومت کے رویہ کا اظاہر ہوتا ہے ‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ تو محض ایک نعرہ ہے ۔ 10 بڑی ٹریڈ یونینس 12 نکاتی منشور مطالبات کے ساتھ آج ملک گیر ہڑتال منظم کی ہیں ۔ انھوں نے قیمتوں پر کنٹرول ، بیروزگاری میں کمی ، بنیادی لیبر قوانین کے موثر نفاذ ، تمام محنت کشوں و سماجی تحفظ و سلامتی کے تحت احاطہ اور 15000 روپئے ماہانہ اقل ترین اجرت دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ورکرس کے وظائف میں اضافہ ، سرکاری صنعتوں اور اداروں سے سرمایہ نکاسی کا خاتمہ وغیرہ بھی ٹریڈ یونینوں کے مطالبات میں شامل ہے ۔

TOPPOPULARRECENT