Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مزید جہیز کیلئے بیوی کی عریاں تصاویر و فلم بندی کے ذریعہ ظلم و زیادتی

مزید جہیز کیلئے بیوی کی عریاں تصاویر و فلم بندی کے ذریعہ ظلم و زیادتی

ہراسانی کا شکار لڑکی کی والد کے ساتھ انسانی حقوق کمیشن میں شکایت ، پولیس سے رپورٹ طلب
حیدرآباد ۔ /25 مئی (سیاست نیوز) مزید جہیز کیلئے مارپیٹ ہراسانی زدوکوب کرنا گھر میں قید کرنا اذیتیں پہونچانا تو عام بات ہے لیکن ایک شخص نے جہیز کیلئے اپنی بیوی کی عریاں تصاویر سے اسے ہراساں کرنا شروع کردیا ۔ تنہائی میں لی گئی تصاویر اور فلم بناکر اپنی بیوی کو پریشان کررہا تھا ۔ شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کے مبینہ ظلم و زیادتیوں کے خلاف آج اس لڑکی نے انسانی حقوق کمیشن سے شکایت کردی ۔ یہ واقعہ پرانے شہر کے علاقہ بہادر پورہ سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لڑکی عشرت بیگم کا ہے جس کی شادی ہوئے ابھی ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا ۔ اس لڑکی نے آج انسانی حقوق کمیشن سے رجوع ہوکر اپنی درد بھری داستان سنائی اور اشکبار ہوگئی لڑکی اپنے والد عبدالمنان ساکن کشن باغ کے ہمراہ ایچ آر سی پہونچی تھی ۔ عشرت اور ان کے والد عبدالمنان کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن سے قبل انہوں نے بہادر پورہ پولیس کا رخ کیا تھا ۔

 

تاہم ایک ہفتہ تک وہ مسلسل چکر کاٹنے کے باوجود ان کا انسپکٹر سے رابطہ قائم نہ ہوسکا ۔ عبدالمنان کا کہنا ہے کہ ان کے داماد کی خواہش ’’کار‘‘ کے مطالبہ کو وہ پورا نہیں کرسکے اور ان کی بیٹی کی زندگی پر کاری ضرب لگادیا ۔ عبدالمنان نے بتایا کہ انہوں نے اپنی لڑکی عشرت بیگم کی شادی جولائی 2015 ء میں تاڑبن علاقہ کے ساکن مرزا ارشد علی بیگ سے کی شادی کے اندرون 2 ماہ لڑکی بھی قطر گئی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں داماد ارشد چلا گیا تھا اور بعد میں انہوں نے اپنی لڑکی کو روانہ کیا جیسے ہی یہ لوگ وہاں پہونچے لڑکی کے ساتھ ہراسانی کا آغاز ہوگیا ۔ انہوں نے اپنے داماد پر الزام لگایا کہ وہ ان کی بیٹی کو بری طرح زدوکوب کرتا تھا اور داماد کی مارپیٹ کے سبب ہی ان کی بیٹی کا حمل ساقط ہوگیا ۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکی کو اس طرح زدوکوب کرتا تھا کہ لڑکی بے ہوش ہوجاتی تھی ۔ عشرت بیگم اور ان کے والد نے ارشد کے والدین پر بھی ہراسانی کا الزام لگایا ۔ عبدالمنان نے بتایا کہ لڑکی کی شادی کے وقت جوڑے کی رقم نہیں لی گئی ۔ تاہم انہوں نے 14 تولہ سونا دیا اور شادی کے چند روز بعد داماد نے کار کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت انہوں نے داماد سے عاجزی کرتے ہوئے 2 لاکھ نقد رقم دی ۔ چند روز گزرنے کے بعد مکان کی تعمیر کیلئے 6 لاکھ کا مطالبہ کیا گیا ۔ بیٹی کے گھر سنسار اور داماد کی خوشی کیلئے عبدالمنان نے 3 لاکھ نقد رقم دی ۔ باوجود اس کے ان کی لڑکی کو پریشان کیا جانے لگا ۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان کی لڑکی قطر سے حیدرآباد واپس آئی اور سسرال سے مائیکے آنے کے بعد پہلی مرتبہ اپنے اوپر ڈھائے جارہے ظلم و ستم کی داستان سنائی جس کے بعد انہوں نے اس طرح کا اقدام کیا ۔ عشرت کی درخواست پر انسانی حقوق کمیشن نے پولیس کے اعلیٰ عہدیدار کو ہدایت دی ہے کہ وہ /19 جولائی تک مکمل رپورٹ پیش کرے ۔

TOPPOPULARRECENT